مہران آفریدی 

 

افغان مہاجر بلال کا خاندان گزشتہ تقریباً 50 برس سے پاکستان میں مقیم ہے، لیکن آج بلال گرفتاری کے خوف سے گھر تک محدود ہیں۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، تو دوسری جانب وہ صرف اتنی مہلت چاہتے ہیں کہ برسوں پر محیط اپنی زندگی، کاروبار اور خاندانی معاملات سمیٹ کر باوقار انداز میں اپنے وطن واپس جا سکیں۔

 

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کے علاقے وزیر ڈھنڈ میں مقیم 28 سالہ افغان مہاجر بلال کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث وہ عید کے بعد سے معمول کے مطابق گھر سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کے بقول، 10 جولائی کی ڈیڈلائن دیے جانے کے بعد ان کے لیے گھر سے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

 

 

ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ افغان مہاجرین کو وطن واپسی کے لیے صرف اتنا وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنے کاروبار، مالی معاملات اور خاندانی ذمہ داریاں مناسب انداز میں مکمل کر سکیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں کن شعبوں میں تبدیلی آئے گی؟ وزیراعلیٰ کے اہم اعلانات

 

بلال کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہے اور اس عرصے کے دوران ان کی زندگی، روزگار اور سماجی روابط مکمل طور پر یہیں استوار ہوئے ہیں۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ پشاور کی سائیکل مارکیٹ میں برسوں کی محنت سے قائم کیا گیا کاروبار چند دنوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔

“دکان کا سامان، لین دین اور دیگر معاملات نمٹانے کے لیے وقت چاہیے۔ اگر اچانک جانا پڑا تو نہ صرف ہمیں بلکہ ان لوگوں کو بھی مشکلات پیش آئیں گی جن کے ساتھ ہمارے مالی معاملات ابھی باقی ہیں۔”

 

بلال نے مزید کہا کہ اگر حکومتِ پاکستان یہاں مقیم افغان تاجروں کو مزید مہلت دے تو وہ تمام قانونی اور مالی امور مکمل کرکے اطمینان کے ساتھ افغانستان واپس جا سکتے ہیں۔

 

ان کے مطابق ان کے خاندان کے تقریباً 100 سے 150 افراد پاکستان میں مقیم ہیں، جبکہ کئی خاندانوں کی پاکستانی شہریوں کے ساتھ رشتہ داریاں اور شادیاں بھی یہیں ہوئی ہیں۔

 

 

“ہماری نئی نسل نے اپنی پوری زندگی پاکستان میں گزاری ہے۔ ان کے دوست، تعلیم، روزگار اور سماجی تعلقات سب یہیں ہیں، اس لیے واپسی صرف ایک سفر نہیں بلکہ پوری زندگی بدل جانے کے مترادف ہے۔”

 

بلال کے مطابق اگرچہ ان کا آبائی تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی کوٹ اولسوالی سے ہے، لیکن وہ خود کبھی وہاں مستقل طور پر نہیں رہے۔ ان کے بقول، وہاں زمین تو موجود ہے، مگر رہنے کے لیے گھر، روزگار اور کاروبار کا کوئی انتظام نہیں۔

 

“ہمیں وہاں جا کر ہر چیز نئے سرے سے شروع کرنا ہوگی، جو آسان نہیں ہوگا۔”

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے افغانستان واپسی کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں اور گھر میں سامان سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔

 

دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکیوں کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے یا جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات موجود نہیں، انہیں حکومتی پالیسی کے تحت واپس بھیجا جا رہا ہے۔

 

 

ان کے مطابق پولیس ایسے افراد کو حراست میں لینے کے بعد پشاور کے ناصر باغ ہولڈنگ سینٹر منتقل کرتی ہے، جہاں نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں پولیس کی سکیورٹی میں طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان روانہ کیا جاتا ہے۔

 

فرحان خان کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکیوں کے پاکستانی شہریوں کے ساتھ قانونی خاندانی تعلقات ہیں، مثلاً جن کی شریکِ حیات پاکستانی ہے، انہیں فی الحال ڈیپورٹ نہیں کیا جا رہا، جبکہ دیگر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ہولڈنگ سینٹر منتقل کیے جانے والے تمام افراد کے ساتھ احترام اور مناسب رویہ اختیار کیا جائے۔

 

 

ان کے مطابق رشوت، بدسلوکی یا ہراسانی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور اب تک اس حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکیوں کو شکایات کے اندراج کے لیے پولیس ہیلپ لائن اور متعلقہ حکام کے رابطہ نمبرز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

 

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق پشاور کے 34 پولیس تھانے اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں پولیس اور ریونیو عملہ مشترکہ کارروائیاں کر رہا ہے۔