خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود پاکستان میں موجود افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 

 ضلعی انتظامیہ نے پشاور سمیت مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

 

ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق غیر قانونی افغان شہریوں کی فہرست ایس ایس پی آپریشنز، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو فراہم کر دی گئی ہے تاکہ نشاندہی شدہ مقامات پر مؤثر کارروائیاں کی جا سکیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: لنڈی کوتل کے علاقے نیکی خیل میں زمین کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی

 

ذرائع کے مطابق اشرف روڈ، آٹا مارکیٹ، اندرشہر، خیبر بازار، نمک منڈی، پلاسٹک مارکیٹ، سبزی منڈی، پیپل منڈی، یونیورسٹی روڈ اور پشاور کینٹ کے مختلف تجارتی مراکز میں غیر قانونی طور پر مقیم یا کاروبار کرنے والے افغان شہریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 اسی طرح افغان کالونی، فقیر آباد، غریب آباد، کارپوریشن کالونی، نواز آباد اور دیگر رہائشی علاقوں میں بھی آپریشن کے لیے مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے۔

 

کارروائیوں کی نگرانی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کریں گے جبکہ گرفتار افراد کی شناخت اور جانچ پڑتال کے بعد انہیں مرحلہ وار افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کارروائیاں صرف دن کے اوقات میں بازاروں اور رہائشی علاقوں میں کی جائیں گی جبکہ رات کے وقت آپریشن سے گریز کیا جائے گا۔

 

دوسری جانب بنوں میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کے دوران 12 افغان شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان روانہ کر دیا گیا۔