باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی شخصیت مولانا خانزیب شہید کی پہلی برسی باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوئی، جہاں مقررین نے باجوڑ سے وزیرستان تک اور پورے خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی بحالی، نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد اور قبائلی اضلاع کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
تقریب کا آغاز مولانا خانزیب شہید کے ایصالِ ثواب اور بلندیٔ درجات کے لیے قرآن خوانی اور اجتماعی دعا سے ہوا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج سوات میں حملے کون کر رہا ہے، لوگوں کو گھروں سے بے دخل کون کر رہا ہے اور شہریوں کو نشانہ کون بنا رہا ہے؟ یہی صورتحال پورے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی نظر آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی، ڈپٹی کمشنر کا اہم مراسلہ جاری
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام بارہا نقل مکانی پر مجبور ہوئے، ان کے سکول، مدارس اور مساجد تباہ کیے گئے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے حق اور امن کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ایم پی اے نثار باز نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران 90 ہزار سے زائد پختون جبکہ بارہ سو سے زیادہ قبائلی عمائدین، علماء کرام اور سیاسی رہنما دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ ان کے بقول باجوڑ میں یہ سلسلہ 2005 میں میاں شاہجہان کی شہادت سے شروع ہوا اور بعد ازاں عبدالرازق سمیت متعدد علماء، عمائدین اور سیاسی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تقریب کے دوران مولانا خانزیب شہید کی علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ ان کی تصنیف "متبادل بیانیہ" کی بھی رونمائی کی گئی۔

تقریب کے اختتام پر اے این پی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن اور مولانا خانزیب شہید کے بڑے بھائی شیخ جہانزادہ نے متفقہ 16 نکاتی اعلامیہ پیش کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مولانا خانزیب قومی شہید اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، اس لیے ان کی علمی، ادبی، سیاسی اور قومی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنا ناگزیر ہے تاکہ معاشرے میں اجتماعی شعور، بھائی چارہ، ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔
اعلامیے میں باجوڑ سے وزیرستان تک اور پورے خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے امن کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے میں متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر حرف بہ حرف عمل درآمد، افغانستان میں روایتی لویہ جرگے کے ذریعے قومی مفاہمت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل اور مہاجرین کے معاملے کا حل نکالنے پر بھی زور دیا گیا۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ناوا پاس، غاخی پاس، کگہ کنڈاؤ، لیٹئی کنڈاؤ، مہمند کے گھوسلئی کنڈاؤ اور چترال سے چمن تک تمام تاریخی سرحدی راستے عوام کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھولے جائیں۔
مزید کہا گیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع سے متعلق پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت کیے گئے وعدے جلد پورے کیے جائیں، قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے اور ان علاقوں کے لیے مزید ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا جائے۔

اعلامیے میں وزیراعظم کے اعلان کردہ تحقیقاتی کمیشن کو فوری فعال کرکے مولانا خانزیب شہید کے قتل کی تحقیقات مکمل کرنے، لاپتا افراد کے مسائل حل کرنے، باجوڑ سے وزیرستان تک تمام ضم شدہ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے، معدنی وسائل کا سائنسی سروے کرانے، مقامی جرگوں کی مشاورت سے معدنیات نکالنے، بدامنی سے متاثرہ لوئی سم بازار اور عنایت کلے بازار سمیت مسمار شدہ گھروں اور دکانوں کے مالکان کو معاوضے ادا کرنے، بلاک شناختی کارڈز بحال کرنے اور حلقہ پی کے-22 کے منتخب نمائندے نثار باز کے ترقیاتی فنڈز فوری جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے کے اختتام پر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مولانا خانزیب شہید کے امن، بھائی چارے اور جمہوری جدوجہد کے پیغام کو آگے بڑھائیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، ایم پی اے نثار باز، سابق ایم پی اے بہادر خان، اے این پی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن شیخ جہانزادہ، ضلعی صدر گل افضل خان، جنرل سیکرٹری شاہ نصیر خان، پارٹی کارکنوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
