ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں محکمہ تعلیم کے مرد و خواتین اساتذہ نے رہائشی کوارٹرز اور ہاسٹلز خالی کرنے کے نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں پہلے متبادل رہائش فراہم کی جائے، بصورت دیگر وہ احتجاج کریں گے۔ 

 

اساتذہ نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے جمرود میں ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً نرسنگ و میڈیکل کالج کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے انہیں زبردستی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنا کسی صورت قبول نہیں۔

 

اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تقریباً 20 برس سے ان سرکاری کوارٹرز اور ہاسٹلز میں قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں اور ضلع خیبر کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: شاہ عالم میں پولیو مہم کے دوران سرکاری اہلکاروں اور ایک خاندان کے درمیان جھگڑا، آخر معاملہ کیا ہے؟

 

 ان کے مطابق رہائشی کوارٹرز باقاعدہ الاٹمنٹ لیٹرز کے تحت حاصل کیے گئے ہیں، بجلی کے بل اور دیگر واجبات باقاعدگی سے ادا کیے جاتے ہیں جبکہ تنخواہوں سے رہائش کی مد میں پانچ فیصد کٹوتی بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری قواعد کے مطابق ملازم ریٹائرمنٹ تک رہائشی کوارٹر کا حق رکھتا ہے، لیکن صرف ایک ہفتے کے نوٹس پر انخلاء کا حکم قواعد و ضوابط کے منافی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ رہائشی کوارٹرز اور ہاسٹلز محکمہ تعلیم کے زیر انتظام ہیں، اس کے باوجود انخلاء کا نوٹس ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیا گیا، جو انتظامی بے ضابطگی کی مثال ہے۔ اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے حکام پر بھی عدم دلچسپی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت سے مؤثر رابطہ کیے بغیر انہیں کوارٹرز خالی کرنے کا کہا گیا۔

 

خواتین اساتذہ نے بتایا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران انہیں اطلاع ملی کہ خواتین ہاسٹل کے دروازے توڑ کر زبردستی خالی کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ جاری کردہ نوٹس میں ٹیچرز ہاسٹل کا ذکر بھی موجود نہیں۔ 

 

ان کے مطابق یہ اقدام خواتین کے احترام اور عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سے زائد خواتین اساتذہ ایبٹ آباد، مردان، صوابی، مالاکنڈ، تنگی اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ انہی ہاسٹلز میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے متبادل رہائش کے بغیر انخلاء سے ان کے خاندانوں اور بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔

 

اساتذہ نے واضح کیا کہ وہ نرسنگ و میڈیکل کالج کے قیام کے مخالف نہیں بلکہ تجویز دیتے ہیں کہ کالج کے لیے آر پی ڈی سی (RPDC) سے ملحقہ وسیع اراضی اور بڑے ہاسٹلز استعمال کیے جائیں یا نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں، جبکہ محکمہ تعلیم کے زیر انتظام موجودہ رہائشی کوارٹرز اور ہاسٹلز کو برقرار رکھا جائے۔ اگر انخلاء ناگزیر ہو تو پہلے متبادل رہائش فراہم کی جائے۔

 

جمرود پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نور شیر آفریدی، سلیم وزیر، صدیق احمد، بخت بیگم، روبی پرویز، صفیہ بیگم اور دیگر اساتذہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سیکرٹری تعلیم، ڈائریکٹر ایجوکیشن اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متبادل رہائش فراہم کیے بغیر اساتذہ کو رہائشی کوارٹرز اور ہاسٹلز سے بے دخل نہ کیا جائے، بصورت دیگر وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔