پشاور کے علاقے فقیر آباد کی اشرفیہ کالونی میں قائم نجی بحالی مرکز گڈ ول ویلفیئر فاؤنڈیشن میں زیرِ علاج 30 سالہ نہال مبینہ تشدد کے بعد جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا اور ضلعی انتظامیہ نے بحالی مرکز کو سیل کرکے واقعے کی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

 

ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے نہال کے والد زیارت گل نے بتایا کہ ان کا بیٹا نشے کا عادی تھا، جس کی بحالی کے لیے اسے مذکورہ بحالی مرکز میں داخل کرایا گیا تھا۔

 

 انہوں نے کہا کہ نہال بے روزگار تھا اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آنا چاہتا تھا، اسی امید پر اہلِ خانہ نے اسے بحالی مرکز بھیجا اور ماہانہ 10 ہزار روپے فیس بھی باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔

 

 

زیارت گل کے مطابق ہفتے کے روز بحالی مرکز کی انتظامیہ نے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے بغیر نہال کی لاش ایمبولینس عملے کے حوالے کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینس عملے کو گھر کا درست پتہ بھی فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ کئی گھنٹوں تک لاش لے کر مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، بعد ازاں اہلِ خانہ تک اطلاع پہنچی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: ٹک ٹاکر خاتون سے مبینہ شادی کا تنازع، نوجوان کی جان چلی گئی، حقیقت کیا ہے؟

 

انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقاتوں کے دوران نہال اکثر بحالی مرکز میں اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد کی شکایت کرتا تھا، تاہم مرکز کے مالک انہیں یہ کہہ کر مطمئن کرتے رہے کہ اس کی باتوں پر توجہ نہ دیں۔

 

 زیارت گل کے مطابق نہال اس سے قبل جاپان اور بعد ازاں دبئی میں بھی ملازمت کر چکا تھا، تاہم وطن واپسی کے بعد بے روزگار ہوگیا تھا۔ وہ تین بچوں کا باپ تھا اور مدینہ کالونی، نمرہ ٹاؤن، بشیر آباد میں اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔

 

 

واقعے کے خلاف تھانہ فقیر آباد میں درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق نہال کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد بحالی مرکز کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور متاثرہ خاندان کے بیانات کی روشنی میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

 

پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بحالی مراکز سے متعلق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی مختلف مراکز میں نشے کے عادی افراد پر مبینہ تشدد، غیر معیاری سہولیات اور انتظامی غفلت سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

 

سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈرگ فری پشاور مہم پر گزشتہ چار برسوں کے دوران 51 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔ مالی سال 2021-22 میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، فیز ٹو میں 11 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ فیز تھری میں 32 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

محکمہ سماجی بہبود خیبرپختونخوا کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق فیز تھری کے دوران متعدد بحالی مراکز میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کسی بھی مرکز میں مخصوص ڈی ٹاکس یا ری ہیبلیٹیشن وارڈز موجود نہیں تھے، لیبارٹری کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی تھی، جبکہ تفریحی سرگرمیوں کے لیے مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں تھی۔ اس کے علاوہ باتھ رومز کی حالت بھی غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

 

آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ بعض مراکز میں ایک ہی ہال میں 55 سے 80 نشے کے عادی افراد کو رکھا گیا۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کو دیگر مریضوں کے ساتھ رکھا جاتا رہا، جبکہ بیڈز اور کمروں کی تعداد بھی ریکارڈ میں ظاہر کی گئی تعداد سے کم پائی گئی۔

 

رپورٹ کے مطابق بحالی مراکز میں مریضوں پر مبینہ تشدد، مناسب خوراک کی عدم فراہمی اور ماہرِ نفسیات کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل بھی سامنے آئے، جس سے بحالی مراکز کی نگرانی اور معیار پر سوالات اٹھے۔

 

نہال کی ہلاکت کے بعد محکمہ سماجی بہبود اور ضلعی انتظامیہ نے گڈ ول ویلفیئر فاؤنڈیشن کے بحالی مرکز کو سیل کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دوسری جانب گڈ ول ویلفیئر فاؤنڈیشن کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ادارے کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

 نہال کے اہلِ خانہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔