وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت مالاکنڈ ڈویژن میں امن و امان، ترقیاتی پروگراموں، گورننس اور سروس ڈیلیوری سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو مالاکنڈ ڈویژن میں پارلیمنٹرینز پر حملوں کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے لیے خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ، آلات اور دیگر ضروری وسائل سے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تمباکو پر نئے ٹیکس، خیبرپختونخوا کے کاشتکاروں نے حکومت کو وارننگ دے دی
وزیراعلیٰ نے دہشتگردی اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مربوط اور بلاامتیاز کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے سوات میں پیڈز اسپتال اور ارشد شریف یونیورسٹی کے منصوبوں کے لیے مکمل فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی، جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں مزدور شیلٹرز کے قیام اور عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی اور پنکھوں کی دستیابی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
انہوں نے انتظامیہ کو سروس ڈیلیوری مزید بہتر بنانے، عوامی اطمینان کو کارکردگی کا بنیادی پیمانہ بنانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اعتماد اور خوشحالی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں 737 ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری ہے اور ترقیاتی فنڈز کا 99 فیصد خرچ کیا جا چکا ہے، جبکہ پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری کے تحت عمارتوں کی فورٹیفیکیشن کا عمل جاری ہے، 14 پولیس سہولت مراکز فعال ہیں اور مزید 3 مراکز زیر تعمیر ہیں۔
