باجوڑ: ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف عنایت کلی بازار میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں تاجر برادری اور مقامی افراد نے شرکت کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے باجوڑ کے سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کی آئینی و قانونی حیثیت کا احترام کیا جائے اور ان علاقوں میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں نئے ٹیکس عوام اور تاجروں پر اضافی بوجھ ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے، بصورتِ دیگر احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
احتجاج میں شریک افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور حکومت سے ٹیکسوں کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے لیے کئی دہائیوں سے جاری ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی سے ان علاقوں میں صنعتی پیداوار پر 12 فیصد سیلز ٹیکس اور 7 فیصد انکم ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔
