پشاور کے علاقے شاہ پور بابو ٹاؤن ادریمہ میں ٹک ٹاکر خاتون سے مبینہ دوسری شادی کے تنازع پر جرگے کے دوران فائرنگ سے زخمی ہونے والا نوجوان دم توڑ گیا، جبکہ واقعے میں مخالف فریق کے افراد بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے دونوں جانب سے مقدمات درج کر لیے ہیں، تاہم دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ 30 جون کو پیش آیا، جہاں اصغر ولد احمد خان نے رپورٹ درج کرائی کہ اس کی بہن کا شوہر سمیع مبینہ طور پر اس پر تشدد کرتا تھا۔ اسی معاملے کے حل کے لیے وہ اپنے بھائی عبدالصمد، والد اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ جرگے کی صورت میں ملزم کے گھر گئے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: ضم اضلاع کے لیے وزیراعلیٰ کی اہم ہدایات، انتظامیہ کو تین ماہ کی ڈیڈ لائن
رپورٹ کے مطابق جرگے کے دوران تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی، جس کے بعد ملزمان نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے عبدالصمد اور اس کا بھائی اصغر زخمی ہوگئے، جبکہ بعد ازاں عبدالصمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
مدعی نے مقدمے میں سمیع، انعام، سہیل اور قاری سلیم کو نامزد کیا ہے۔
مقتول کے والد احمد خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی چار سال قبل سمیع سے کی تھی، تاہم بعد میں ملزم نے مبینہ طور پر ایک ٹک ٹاکر خاتون سے خفیہ طور پر دوسری شادی کر لی، جس کے بعد وہ ان کی بیٹی پر تشدد کرتا تھا۔ ان کے مطابق جرگہ صلح کی غرض سے گیا تھا، لیکن وہاں ملزمان پہلے سے مسلح حالت میں موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 35 سالہ مقتول عبدالصمد شادی شدہ تھا اور محنت مزدوری کے سلسلے میں پانچ سال تک سعودی عرب میں مقیم رہا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں نامزد چار ملزمان میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مقتول کے ورثا نے سی سی پی او پشاور سے مطالبہ کیا ہے کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
