عمران علی یوسفزئی
خیبرپختونخوا میں تمباکو کے کاشتکاروں، ڈیلرز، ایکسپورٹرز اور مقامی چھوٹی صنعتوں کے مالکان نے وفاقی حکومت کی حالیہ ٹیکس پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک مزید تیز کرتے ہوئے 20 جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تمباکو کو باقاعدہ زرعی فصل قرار دیا جائے، فی کلو عائد 390 روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور ایکسپورٹ ٹیکس واپس لیا جائے، جبکہ مقامی و چھوٹی صنعتوں کے لیے الگ ٹیکس سلیب متعارف کرایا جائے۔
ٹوبیکو ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اقبال خان آف شیوہ نے ٹرائبل نیوز نیٹ ورک (ٹی این این) کو بتایا کہ صوبہ بھر کے تمباکو کاشتکار، ڈیلرز، مزدور اور چھوٹی کمپنیوں کے مالکان 20 جولائی کو اسلام آباد کی جانب فیصلہ کن مارچ کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: آج کن علاقوں میں بارش ہوگی؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی سامنے آ گئی
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسیوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اقدامات کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں، جبکہ تمباکو کی برآمدات میں تقریباً 40 فیصد کمی آ چکی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ پالیسیوں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
ٹوبیکو ایکشن کمیٹی خیبرپختونخوا کے چیئرمین ارشاد خان نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے نو اضلاع میں لاکھوں افراد کا روزگار تمباکو کی کاشت، خرید و فروخت اور اس سے وابستہ صنعتوں سے منسلک ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد مقامی کاشتکار اور چھوٹی صنعتیں شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

ارشاد خان نے الزام عائد کیا کہ موجودہ پالیسیوں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ مقامی صنعتکار اور کاشتکار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چھوٹی صنعتوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمباکو سے وابستہ شعبہ ہر سال قومی خزانے میں تین ارب روپے سے زائد محصولات جمع کراتا ہے، اس کے باوجود اس صنعت سے وابستہ افراد کو مختلف اداروں کی کارروائیوں اور سخت نگرانی کا سامنا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹوبیکو ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو کو گندم، گنا اور کپاس کی طرح باقاعدہ زرعی فصل کا درجہ دیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو دیگر زرعی شعبوں کی طرح پالیسی اور قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ کمیٹی نے فی کلو 390 روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایکسپورٹ ٹیکس واپس لینے کے ساتھ ساتھ مقامی و چھوٹی صنعتوں کے لیے الگ ٹیکس سلیب متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ دوسری جانب ٹرائبل نیوز نیٹ ورک نے اس معاملے پر وفاقی حکومت کا مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے کی کوشش کی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہو سکا۔
ٹوبیکو ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جاری احتجاجی تحریک میں مردان، صوابی، چارسدہ، بونیر سمیت تمباکو پیدا کرنے والے مختلف اضلاع کے کاشتکار، مقامی صنعتکار، ڈیلرز اور ایکسپورٹرز شریک ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ٹیکس پالیسیوں سے نہ صرف تمباکو کی مقامی صنعت متاثر ہوئی ہے بلکہ ہزاروں کاشتکاروں، مزدوروں اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے روزگار اور آمدنی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
تحریک کے سلسلے میں ضلع صوابی میں احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں انبار انٹرچینج پر مختلف سیاسی جماعتوں، کاشتکار تنظیموں اور صنعتکاروں کی مشترکہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد ہوئی، جس میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تمباکو کاشتکاروں نے شرکت کی۔
احتجاج کے دوران مرکزی شاہراہ کو کچھ وقت کے لیے ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا، جبکہ مظاہرین نے حکومت کی تمباکو پالیسیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مبینہ اجارہ داری کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں تمباکو کی پیداوار مقامی معیشت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ احتجاجی تحریک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب کاشتکار حکومتی ٹیکس پالیسیوں کو اپنے معاشی مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ 20 جولائی کو اسلام آباد میں اعلان کردہ دھرنے کو اس تحریک کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
