طورخم بارڈر کی گزشتہ نو ماہ سے جاری بندش کے باعث سرحدی تجارت بند ہونے اور ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہونے پر ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

 

 اس موقع پر حکومتِ پاکستان، حکومتِ خیبرپختونخوا اور متعلقہ اداروں سے فوری طور پر سرحدی تجارت بحال کرنے، متاثرہ افراد کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج دینے اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

مقررین نے کہا کہ طورخم بارڈر پر کشیدگی کے باعث گزشتہ نو ماہ سے تجارتی سرگرمیاں بند ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: والد نے بیٹے سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں سے اہم اپیل کر دی

 

انہوں نے بتایا کہ بارڈر کی بندش سے تقریباً چار ہزار مزدور، دو ہزار مقامی ٹرانسپورٹرز، پندرہ سو کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس، ہزاروں تاجر اور خیبر سے کراچی تک تجارت سے وابستہ کاروباری حلقے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر نہ صرف ضلع خیبر بلکہ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت کا اہم راستہ ہے۔ اس سرحدی گزرگاہ سے خطے کی معیشت وابستہ ہے اور مقامی آبادی کی بڑی تعداد کا روزگار بھی اسی تجارت پر منحصر ہے۔

 

 

مقررین کے مطابق بارڈر کی بندش سے قومی خزانے کو بھی بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات کی مد میں یومیہ تقریباً 2.5 ملین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات کی مد میں 540 ملین روپے کے محصولات متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو مسلسل نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران قومی مفاد، ملکی سالمیت اور امن کو ترجیح دیتے ہوئے خاموشی اختیار کی گئی، تاہم اب حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول مزدور، تاجر اور ٹرانسپورٹر معاشی مشکلات کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ سرحدی کشیدگی اور گولہ باری کے نتیجے میں طورخم بارڈر پر 30 سے زائد کاروباری مراکز اور دفاتر تباہ ہوئے، تاہم متاثرین کو اب تک نہ کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی کسی قسم کا ریلیف پیکیج دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس کے لیے فوری خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔

 

انہوں نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ خیبرپختونخوا، ایف بی آر، وزارتِ تجارت، وزارتِ خارجہ، وزیرِاعظم پاکستان، آرمی چیف، متعلقہ اداروں اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہوئے طورخم بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں فوری بحال کی جائیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جاتا ہے، اس لیے طورخم بارڈر پر بھی تجارت ہر حال میں جاری رہنی چاہیے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو قومی مشران، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور متاثرہ کاروباری طبقے سے مشاورت کے بعد پاک افغان شاہراہ پر غیر معینہ مدت کا احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

 

پریس کانفرنس سے طورخم کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، سابق صدر ایمل شینواری، شاہ جہان، حضرت عمر اور آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر عظیم اللہ نے خطاب کیا۔