خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں مبینہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے اہل خانہ کی جانب سے لاتعلقی کے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں علاقے فیروز فتح خیل کے رہائشی ایوب نواز خان نے بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے عزیز اللہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایوب نواز خان نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے اور ان کے بیٹے عزیز اللہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اہل خانہ کو اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ جا ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: آؤٹ سورسنگ کے باوجود درجنوں سرکاری سکول کیوں فعال نہ ہو سکے؟
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اپنے بیٹے کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر عزیز اللہ کسی غیر قانونی یا ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی ادارے قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کریں، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
ایوب نواز خان نے مزید بتایا کہ ان کا ایک اور بیٹا روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہے، جبکہ عزیز اللہ بھی ماضی میں مزدوری کی غرض سے بیرون ملک جا چکا تھا اور ایک عبادت گزار نوجوان تھا۔ ان کے بقول کسی نے اسے گمراہ کرکے غلط راستے پر ڈال دیا، اور گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے وہ مبینہ طور پر ان افراد کے ساتھ ہے، جس کے بعد سے اس نے اہل خانہ سے بھی رابطہ منقطع کر رکھا ہے۔
انہوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کے مبینہ اقدامات کی ذمہ داری خاندان پر نہ ڈالی جائے اور بے گناہ اہل خانہ کو ہراساں نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان قانون کا احترام کرتا ہے اور کسی بھی غیر قانونی یا ریاست مخالف سرگرمی کی حمایت نہیں کرتا۔
