خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ منصوبے پر عملدرآمد کے دوران متعدد مشکلات سامنے آگئیں، جبکہ آؤٹ سورس کیے گئے درجنوں سکول تاحال فعال نہیں ہو سکے۔ فعال قرار دیے گئے سکولوں کے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے ونٹر زون کے 210 سرکاری سکول آؤٹ سورس کیے، تاہم ان میں سے صرف 146 سکول فعال ہو سکے ہیں، جبکہ 64 سکول اب بھی غیر فعال ہیں۔
دستاویزات کے مطابق غیر فعال 64 سکولوں میں سے 53 سکول عمارتوں کی خستہ حالی، چار دیواری کی عدم دستیابی، کم کمروں اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث فعال نہیں ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: گزشتہ 48 گھنٹوں میں بارشوں سے اب تک کتنا جانی و مالی نقصان ہوا؟
اسی طرح 4 سکولوں کو رسائی کے مسائل درپیش ہیں، 2 سکول سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں، 3 سکول ایسے علاقوں میں ہیں جہاں طلبہ کی آمد ممکن نہیں، جبکہ 1 سکول قانونی تنازع کی وجہ سے تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب ہری پور، خیبر اور اپر دیر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران نے فعال سکولوں سے متعلق فراہم کیے گئے اعداد و شمار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ اجلاس میں اعداد و شمار پر سوالات سامنے آنے کے بعد آؤٹ سورس کیے گئے سکولوں کی فزیکل ویریفکیشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سکولوں کی حقیقی صورتحال اور فعالیت کا درست تعین کیا جا سکے۔
