خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری دفاتر کے لیے تحائف، مہمان نوازی اور انٹرٹینمنٹ (تفریحی) کی مد میں 35 کروڑ 11 لاکھ روپے مختص کیے ہیں، جبکہ بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال اس مد میں مختص رقم سے تقریباً 70 فیصد زیادہ اخراجات کیے گئے۔

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال تحائف اور چائے پانی کی مد میں 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم سال کے اختتام تک اس مد میں 47 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جو مختص رقم سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے بڑے نقصانات، پی ڈی ایم اے کی ابتدائی رپورٹ جاری

 

دستاویزات کے مطابق مجموعی تفریحی بجٹ کا تقریباً 78 فیصد صرف صوبائی اسمبلی، محکمہ خزانہ اور جنرل ایڈمنسٹریشن استعمال کر رہے ہیں۔

 

نئے مالی سال میں محکمہ خزانہ کے لیے تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں سب سے زیادہ 11 کروڑ 62 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 10 کروڑ 5 لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کے لیے 6 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

 

اسی طرح چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے لیے اس مد میں 1 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال چیف منسٹر سیکرٹریٹ نے چائے پانی اور تحائف کی مد میں تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ کیے۔

 

دیگر محکموں کے لیے مختص رقوم کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے لیے 89 لاکھ 99 ہزار روپے، محکمہ داخلہ کے لیے 50 لاکھ 70 ہزار روپے، محکمہ صحت کے لیے 40 لاکھ 60 ہزار روپے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 37 لاکھ 21 ہزار روپے، سوشل ویلفیئر کے لیے 27 لاکھ 26 ہزار روپے، پولیس کے لیے 10 لاکھ 57 ہزار روپے جبکہ زکوٰۃ و عشر کے لیے ایک لاکھ 42 ہزار روپے تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں مختص کیے گئے ہیں۔

 

اس حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔