پشاور ہائی کورٹ نے کوہاٹ اور پشاور روڈ پر سرکاری ملازمین سے ٹول ٹیکس کی وصولی کے خلاف دائر درخواست پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل سعد خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے روزانہ کوہاٹ سے پشاور سفر کرتے ہیں اور آمد و رفت کے دوران دونوں اطراف کے ٹول پلازوں پر بار بار ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مہمند: سیکیورٹی فورسز کی ٹیم پر دھماکہ، 3 اہلکار شہید، 4 زخمی
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر مراعات یافتہ افراد کو ٹول ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ کم اور درمیانے درجے کے سرکاری ملازمین محدود تنخواہوں کے باوجود روزانہ یہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
درخواست کے مطابق مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور محدود آمدن کے تناظر میں روزانہ ٹول ٹیکس کی وصولی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 14، 15 اور 25 سے متصادم ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے روزانہ سفر کرنے والے کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کو ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بینچ نے اس حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو دو ہفتوں کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
