وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں حکومتی خدمات کو مرحلہ وار آن لائن اور عوامی ضرورت کے مطابق بنایا جائے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

 

پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 پاکستان کی جامع ترین ڈیجیٹل پالیسیوں میں شامل ہے، جس کا مقصد شفاف، مؤثر اور جدید طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ سے ہونے والے نقصانات، پی ڈی ایم اے کی رپورٹ سامنے آگئی

 

انہوں نے کہا کہ  پیپر لیس گورننس اور ڈیجیٹل اصلاحات سے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ سرکاری امور میں انسانی مداخلت کم ہونے سے بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

 

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے دور دراز علاقوں کے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانا پڑیں گے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام مالی وسائل کے مؤثر استعمال، کاغذ کی کھپت میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

 

سہیل آفریدی نے عمران خان کے وژن "ڈیجیٹل خیبرپختونخوا" کو عملی شکل دینے پر خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ روڈ میپ جدید، ماحول دوست اور پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

 

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال کوئی نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے ریونیو جمع کیا، جبکہ رواں مالی سال ریونیو کا ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وصولیاں 200 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔

 

اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030 پانچ اسٹریٹجک ستونوں، نو اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز اور 915 اسٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔ اس کے لیے اہداف، ٹائم لائنز اور عمل درآمد کا جامع فریم ورک بھی تیار کیا گیا ہے۔

 

بریفنگ کے مطابق سرکاری خدمات اور مالی لین دین کی ڈیجیٹائزیشن کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، جبکہ گرین آئی سی ٹی پروکیورمنٹ، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری کے قیام پر بھی کام کیا جائے گا۔