خیبرپختونخوا میں بدلتے موسم، بڑھتی گرمی، بے ترتیب بارشوں اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات نے درختوں کی اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق شجرکاری اب صرف خوبصورتی یا سبزہ بڑھانے کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ انسانی زندگی، صحت اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
اسی صورتحال کے پیشِ نظر خیبرپختونخوا حکومت نے مون سون شجرکاری مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں لاکھوں پودے لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد صوبے کو سرسبز بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل کامیابی صرف پودے لگانے سے نہیں بلکہ ان کی مسلسل دیکھ بھال اور تحفظ سے ہی ممکن ہوگی۔
وزیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کے مطابق مون سون شجرکاری مہم کے دوران صوبے بھر میں 20 لاکھ پودے لگائے جائیں گے، جبکہ 14 اگست، یومِ آزادی کے موقع پر مزید 14 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

شفیع جان کے مطابق پشاور کو سرسبز بنانے کے لیے "پشاور عظمتِ رفتہ بحالی پروگرام" کے تحت سپین خاک کے علاقے میں 10 ہزار کنال رقبے پر شجرکاری کی جائے گی، جہاں 5 لاکھ 40 ہزار پودے لگائے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت 200 کنال پر پھلدار باغات قائم کیے جائیں گے، جبکہ 20 ہزار زیتون کے پودے بھی لگائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور شہر میں ماحول کو بہتر بنانے کے لیے 20 میاواکی جنگلات قائم کیے جائیں گے، جبکہ تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں 40 ہزار پھلدار پودے لگائے جائیں گے۔ ان کے مطابق پھلدار درخت پرندوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شفیع جان کے مطابق جنگلات کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت نے مختلف منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں، جن میں ٹین بلین ٹری اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے لیے ایک ارب روپے، بلین ٹری پلس پروگرام کے لیے 50 کروڑ روپے اور بلین ٹری افاریسٹیشن سپورٹ پراجیکٹ کے لیے 50 کروڑ روپے شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شعبۂ ماحولیات کے مختلف منصوبوں کے لیے بھی 98 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا ملک کے مجموعی جنگلات کے تقریباً 45 فیصد رقبے کا حامل صوبہ ہے، اور عوامی شراکت داری سے صوبے کو مزید سرسبز بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف درختوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ان کی بقا پر توجہ دینا ضروری ہے۔
پشاور میں ماحولیات اور گورننس کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے ڈان کے صحافی منظور علی کے مطابق خیبرپختونخوا میں ماضی کے بڑے شجرکاری منصوبوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر درست منصوبہ بندی اور مناسب دیکھ بھال کی جائے تو لگائے گئے پودے چند ہی برسوں میں گھنے جنگلات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
منظور علی کہتے ہیں کہ 2013 سے 2018 تک بلین ٹری سونامی منصوبے کے دوران بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی، جس کے نتیجے میں پشاور سمیت کئی علاقوں میں درختوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جو اس منصوبے کی کامیابی کی ایک مثال ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کو صرف خیبرپختونخوا تک محدود کامیاب منصوبہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ دنیا بھر میں اسے ایک مثال کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر شجرکاری کے فوائد سامنے آئے۔
منظور علی کے مطابق موجودہ حالات میں پشاور اور جنوبی اضلاع میں مزید درخت لگانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ علاقے شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول پشاور ایک بڑا کاروباری شہر ہے، جہاں تعمیرات اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے یہاں درختوں کی تعداد بڑھانا انتہائی ضروری ہے تاکہ گرمی کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے پشاور میں گرمی زیادہ تر دن کے وقت محسوس ہوتی تھی، لیکن اب رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت میں واضح کمی نہیں آتی۔ اگر موسمی حالات اسی طرح تبدیل ہوتے رہے تو مستقبل میں یہاں رہنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
منظور علی کے مطابق حکومت نے گزشتہ اسپرنگ شجرکاری مہم کے دوران بھی 20 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا، اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے نتائج مستقبل میں مثبت مرتب ہوں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ شجرکاری مہم میں بچوں اور نوجوانوں کی شرکت کو بڑھانا چاہیے، کیونکہ یہی نسل مستقبل میں ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق آج کے بچوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ درخت کسی قیمتی دھات سے کم نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔
منظور علی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت انہیں مفت پودے فراہم کرے تو وہ رضاکارانہ طور پر شجرکاری مہم کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں اور میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو درختوں کی اہمیت سے آگاہ کریں گے۔

وہ حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ صرف نئے مقامات پر شجرکاری نہ کی جائے بلکہ ان علاقوں میں بھی نئے درخت لگائے جائیں جہاں پرانے درخت ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پشاور کینٹ جیسے علاقوں میں برطانوی دور کے کئی درخت اب بھی موجود ہیں، لیکن جو درخت خراب یا ختم ہو چکے ہیں، ان کی جگہ نئے درخت لگانے کی ضرورت ہے۔
منظور علی کے مطابق ہر علاقے کے لیے مناسب درختوں کا انتخاب ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس علاقے کی مٹی اور موسم جس درخت کے لیے موزوں ہوں، وہاں وہی درخت لگانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پشاور میں کھجور جیسے درخت لگانے کے بجائے مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی اقسام کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ کھجور بنیادی طور پر صحرائی علاقوں کا پودا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ بیرونِ ممالک درختوں کی کٹائی پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی غیر ضروری درختوں کی کٹائی کے رجحان کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ماحول دوست معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
درختوں کی اہمیت صرف شہر کی خوبصورتی تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق شجرکاری موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، تاہم کامیابی کے لیے مقامی ماحول کے مطابق درختوں کا انتخاب اور ان کی حفاظت ضروری ہے۔
اسی حوالے سے جامعہ سوات کے شعبۂ ماحولیاتی سائنس کے لیکچرر اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر فیاض امین کہتے ہیں کہ درخت ماحول کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ یہ گرمی کی شدت کم کرنے، سیلاب کے خطرات گھٹانے اور فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ان کے مطابق جن علاقوں میں درختوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، وہاں ہیٹ ویوز کے اثرات بھی کم ہوتے ہیں، جبکہ درختوں سے محروم علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی اضلاع، جہاں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے اور بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، وہاں درختوں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق درختوں کی جڑیں زمین میں پانی جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے بارش کے پانی کے تیز بہاؤ میں کمی آتی ہے اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات بھی کم ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی اضلاع، جیسے ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، پشاور اور مردان میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ضرورت ہے، کیونکہ ان علاقوں میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ درخت صرف موسم بہتر بنانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ زرعی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ جہاں درخت زیادہ ہوتے ہیں، وہاں پرندوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے، جو فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے زراعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق سرسبز ماحول انسانی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ذہنی سکون اور بہتر ماحول کے لیے سبز مقامات کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ درخت اور ہریالی انسان کے مزاج اور صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ان کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی اہم خطہ ہے، کیونکہ پوری دنیا میں موجود 10 بڑی ایکوسسٹمز میں سے 8 اس خطے میں پائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس علاقے کے جنگلات کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر فیاض امین کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں جنگلات میں کمی کی وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن کو مختلف ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق جنگلات کی کٹائی روکنا، غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ اور قدرتی وسائل کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی ایک وجہ درختوں کی کمی بھی ہے، کیونکہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ اگر درخت کم ہوں تو کاربن کے اخراج کو جذب کرنے کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق شجرکاری کے لیے ہر علاقے کی زمین، پانی اور موسمی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشاور اور جنوبی اضلاع میں ایسے درخت لگانے چاہییں جو گرم موسم برداشت کر سکیں، جبکہ شمالی علاقوں میں وہاں کے ماحول کے مطابق اقسام کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق پشاور اور گرم علاقوں میں شیشم، کیکر اور بیری جیسے درخت موزوں ہو سکتے ہیں، جبکہ شمالی علاقوں میں دیودار، چیڑ، اخروٹ اور آلو بخارا جیسے درخت بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی علاقے میں شجرکاری سے پہلے ماحولیاتی تحقیق ضروری ہے تاکہ لگائے گئے پودے کامیاب ہو سکیں۔

وہ حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ کم پانی والے علاقوں میں ایسے درخت لگائے جائیں جو پانی کی کمی برداشت کر سکیں۔ ان کے مطابق مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والے درخت پانی کے تحفظ اور ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے، وہاں لائچی کے درخت لگائے جائیں تاکہ پانی کی قلت کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ صرف پودے لگانا کافی نہیں، بلکہ ان کی دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ پودا لگایا جائے، تصویر لی جائے اور پھر اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ پودوں کو پانی دیں اور درختوں کی کٹائی روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جہاں غیر قانونی کٹائی ہو، وہاں متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق پودے لگانے کے بعد ان کی حفاظت سب سے اہم مرحلہ ہے، کیونکہ مناسب دیکھ بھال کے بغیر شجرکاری کے بڑے منصوبے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔

اسی حوالے سے ڈویژنل فارسٹ آفیسر پشاور اور ڈائریکٹر کمیونیکیشن سیل، خیبرپختونخوا محکمہ جنگلات، محمد شکیل کہتے ہیں کہ محکمہ جنگلات ہر سال دو بڑی شجرکاری مہمات چلاتا ہے، جن میں ایک موسمِ بہار اور دوسری مون سون کے دوران ہوتی ہے۔
محمد شکیل کے مطابق رواں سال مون سون شجرکاری مہم کے دوران صوبے بھر میں 34 لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے 20 لاکھ پودے مون سون مہم کے تحت، جبکہ 14 لاکھ پودے 14 اگست کے موقع پر لگائے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات نے اس سے قبل 23 مارچ کو ایک دن میں گیارہ لاکھ پودے لگا کر ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اب ایک دن میں مزید چودہ لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
محمد شکیل کے مطابق محکمہ جنگلات ہر شجرکاری منصوبے کے لیے چار سالہ منصوبہ بندی کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں ماہرین علاقے کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہاں کون سی اقسام کے پودے بہتر نشوونما پا سکتے ہیں، جس کے بعد شجرکاری شروع کی جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پہلے سال پودے لگانے کے بعد اگلے تین سال تک ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی افراد تعینات کیے جاتے ہیں، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں، جہاں گرمی زیادہ اور پانی کی دستیابی کم ہوتی ہے۔ اگر کوئی پودا خراب ہو جائے تو اس کی جگہ دوبارہ پودا لگا دیا جاتا ہے۔
محمد شکیل کے مطابق تقریباً چار سال بعد پودے قدرتی ماحول کے مطابق مضبوط ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
میاواکی جنگلات کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ عام شجرکاری اور میاواکی طریقۂ کار میں فرق ہے۔ عام شجرکاری مختلف علاقوں میں کی جا سکتی ہے، جبکہ میاواکی جاپانی طریقۂ کار ہے، جو خاص طور پر شہری علاقوں میں کم جگہ پر زیادہ درخت لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق میاواکی جنگلات میں مخصوص مٹی، غذائی اجزا اور مناسب اقسام کے پودوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پودے تیزی سے بڑھتے ہیں۔ پشاور جیسے شہروں میں، جہاں جگہ کم ہے، وہاں میاواکی جنگلات شہری ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
محمد شکیل کے مطابق محکمہ جنگلات ہر شجرکاری مہم میں طلبہ، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو شامل کرتا ہے تاکہ نوجوان نسل ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ جو شہری اپنے گھروں، کھیتوں یا محلوں میں پودے لگانا چاہتے ہیں، انہیں بھی مفت پودے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے شہریوں کو درخواست اور شناختی دستاویز فراہم کرنا ہوتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لگائے گئے پودوں کی حفاظت کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں جاری شجرکاری مہم موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی ایک اہم کوشش ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب لگائے گئے لاکھوں پودے محفوظ رہیں گے اور مستقبل میں مضبوط جنگلات کی شکل اختیار کریں گے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم ان کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
درخت صرف آج کے ماحول کو بہتر بنانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا، بہتر موسم اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں۔
