پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) کی چارج نرس شکیلہ ناز نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ہراساں کیا گیا، انکار پر ان کے خلاف متعدد انکوائریاں شروع کی گئیں اور تنخواہ بھی بند کر دی گئی۔

 

شکیلہ ناز کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 18 برس سے ایچ ایم سی میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں انہیں انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق گائنی یونٹ میں غیر قانونی پرائیویٹ اسقاط حمل (ابارشن) کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خواتین کے پلاسنٹا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے مردہ بچوں کی لاشیں چین فروخت کی جا رہی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کرپشن کے ثبوت پیش کیے، 40 روز گزرنے کے باوجود کارروائی نہیں ہوئی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کرپشن کے ثبوت پیش کیے، 40 روز گزرنے کے باوجود کارروائی نہیں ہوئی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

 

چارج نرس نے الزام لگایا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کے بعد انہیں ڈی جی ہیلتھ کے دفتر ریلیو کیا گیا، متعدد انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑا اور کئی ماہ سے ان کی تنخواہ بھی بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت سے رجوع کیا جہاں سے انہیں ریلیف ملا، تاہم اسپتال انتظامیہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہی۔

 

شکیلہ ناز نے ایچ ایم سی کے بعض انتظامی اور طبی عملے کے ارکان کے نام لیتے ہوئے ان پر ہراسمنٹ اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے۔

 

 

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف سیکرٹری اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ ان کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، بند کی گئی تنخواہ بحال کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

واضح رہے کہ مذکورہ الزامات شکیلہ ناز نے پریس کانفرنس کے دوران عائد کیے ہیں۔ ان الزامات پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس یا نامزد افراد کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔