پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں کی جانب سے مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔
ویڈیو بیان میں عمر دین نے بتایا کہ والد سے تنازع کے بعد وہ فتنہ الخوارج میں شامل ہوا۔ اس کے مطابق افغانستان سے اسلحہ پاکستان منتقل کیا جاتا ہے اور تنظیم کے ہر اہم کمانڈر کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ اسے افغانستان میں راکٹ لانچر سمیت مختلف ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت بھی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں موسم کروٹ لینے کو تیار، کہاں بارش اور کہاں شدید گرمی؟
گرفتار دہشتگرد کا کہنا تھا کہ مذکورہ نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ملوث رہا، جس کے نتیجے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
عمر دین عرف جذبہ نے کہا کہ خوارجی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، حالانکہ ان کے طرزِ عمل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔
اس نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے بعض عناصر منشیات کے استعمال اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے مطابق یہ گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی ملوث ہے۔
گرفتار دہشتگرد نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ فتنہ الخوارج کے بیانیے اور دعوؤں سے متاثر ہونے کے بجائے حقائق کو مدنظر رکھیں اور ایسے گروہوں سے دور رہیں۔
