ضلع خیبر کے سرکاری بوائز و گرلز پرائمری سکولوں میں پی ٹی سی فنڈ کے تحت تعینات 567 اساتذہ کے فارغ ہونے کے بعد متعدد سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

 

خیبر کی تینوں تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ میں تعینات سینکڑوں مرد و خواتین کنٹریکٹ اساتذہ نے حکومت سے اپنی مستقلی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کتنی بڑھ سکتی ہیں؟

 

اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ کئی ماہ تک مختلف سرکاری تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور تعلیمی نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

اساتذہ کے مطابق انہیں سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تین ماہ کے عارضی کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا، تاہم اب ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہیں۔

 

دوسری جانب محکمہ تعلیم کی جانب سے مستقل آسامیوں کے لیے ایٹا (ETEA) ٹیسٹ کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق نتائج سمیت دیگر مراحل بھی طے پا چکے ہیں، جبکہ اب صرف کامیاب امیدواروں کے تقرری آرڈرز جاری ہونا باقی ہیں۔ ان آرڈرز کے اجرا کے بعد کامیاب امیدوار متعلقہ سکولوں میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

 

کنٹریکٹ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں اور تعلیمی عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے حکومت ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مستقل کرنے یا ملازمتوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پالیسی مرتب کرے۔

 

اساتذہ نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ ان کے روزگار اور تعلیمی نظام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔