گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور خنجراب بارڈر کے ذریعے چینی سیاحوں کی آمد کو آسان بنانے کے لیے خنجراب ٹورازم کوریڈور کے قیام پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں ہنزہ اور نگر کو پائلٹ علاقوں کے طور پر شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PCCI) اور پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز (PATO) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی، جس میں خطے میں سیاحت کے فروغ، موجودہ علاقائی صورتحال کے سیاحتی شعبے پر اثرات اور خنجراب بارڈر کے ذریعے چینی سیاحوں کی آمد کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں آج بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے روپے کا ہوگیا؟
ملاقات میں خنجراب پاس کے ذریعے سیاحوں کی آمد میں سہولت، چینی شہریوں کے لیے ویزا اور سفری طریقۂ کار کو آسان بنانے، سرحدی سہولیات میں بہتری اور مجوزہ خنجراب ٹورازم کوریڈور کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

وفد نے تجویز دی کہ سوست میں ٹورازم فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا جائے اور چینی ٹور آپریٹرز کے ساتھ تعاون بڑھا کر خنجراب کے راستے چینی سیاحوں کو گلگت بلتستان کے مختلف سیاحتی مقامات تک رسائی فراہم کی جائے۔
شرکاء کے مطابق خنجراب کے ذریعے سیاحتی روابط میں اضافے سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، ٹور گائیڈز اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی سطح پر روزگار کے امکانات بڑھنے کے ساتھ خطے کی معیشت اور پاکستان کے سیاحتی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
وفد نے سفارش کی کہ خنجراب ٹورازم کوریڈور کو پہلے مرحلے میں ہنزہ اور نگر میں پائلٹ منصوبے کے طور پر شروع کیا جائے اور کامیابی کی صورت میں اسے گلگت بلتستان کے دیگر سیاحتی علاقوں تک توسیع دی جائے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وفد کو بتایا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم سے بھی بات کر چکے ہیں اور چینی سیاحوں کے لیے خنجراب کے راستے سیاحتی روابط کو آسان بنانے کے حوالے سے حکومتی سطح پر پیش رفت جاری ہے۔
ملاقات میں پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور نائب صدر محمد رازق کے علاوہ پی اے ٹی او کے ناظم اللہ بیگ، صدرالدین، ساجد محمود اور محمد عمر بھی شامل تھے۔
