نازیہ سالارزئی
وقت گزرنے کے ساتھ جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر تیزاب گردی آج بھی خواتین کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔
تیزاب سے بھری شیشے کی ایک چھوٹی سی بوتل صرف متاثرہ خاتون کے چہرے اور جسم کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے خواب، مستقبل، ذہنی سکون اور خوداعتمادی پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ اس حملے کے اثرات صرف جسمانی زخموں تک محدود نہیں رہتے بلکہ متاثرہ خاتون کو زندگی بھر نفسیاتی، سماجی اور جذباتی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اکثر ایسے حملوں کے پیچھے یہ سوچ ہوتی ہے کہ خاتون کی ظاہری شکل کو نقصان پہنچا کر اس کی خوداعتمادی ختم کر دی جائے اور وہ معاشرے میں معمول کی زندگی نہ گزار سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مضبوط ارادوں کی مالک بہت سی خواتین ان مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ حوصلے اور اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ استوار کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا اسمبلی سے کالاش میرج رجسٹریشن بل منظور، نئے قانون میں کیا ہے؟
حال ہی میں کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کا واقعہ پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس واقعے نے تیزاب حملوں کے بعد فوری اور درست ابتدائی طبی امداد کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ اسی تناظر میں یہ بلاگ تحریر کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے کہ تیزاب حملے کی صورت میں بروقت کیے گئے اقدامات کس طرح نقصان کی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تیزاب حملے کے بعد فوری اور درست ابتدائی طبی امداد نقصان کی شدت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی حوالے سے پشاور سے تعلق رکھنے والی اسکن اسپیشلسٹ ڈاکٹر نوشین سے بات کی گئی۔
ان کے مطابق اگر حملے کے فوراً بعد درست احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو متاثرہ شخص کو ہونے والے نقصان کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر نوشین نے تیزاب حملے کے بعد اختیار کی جانے والی اہم احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔
ابتدائی طبی امداد میں پانی کیوں ضروری ہے؟
تیزاب حملے کی صورت میں عموماً چہرہ، گردن اور ہاتھ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ چونکہ آنکھیں جسم کا نہایت حساس حصہ ہیں، اس لیے سب سے پہلے انہیں صاف اور بہتے ہوئے پانی سے مسلسل دھونا چاہیے۔ اگر بروقت ایسا نہ کیا جائے تو بینائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ متاثرہ جلد کو 30 سے 60 منٹ تک مسلسل بہتے ہوئے پانی سے دھونا بھی ضروری ہے۔ بہتا ہوا پانی تیزاب کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے زخم مزید گہرے ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر بروقت پانی استعمال نہ کیا جائے تو زخم کی شدت بڑھ سکتی ہے اور بعد میں علاج بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی طبی امداد میں پانی کو سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
متاثرہ شخص کے جسم سے زیورات فوراً ہٹا دیں
اگر متاثرہ شخص نے گھڑی، انگوٹھی، چوڑیاں یا دیگر زیورات پہن رکھے ہوں تو انہیں فوری طور پر اتار دینا چاہیے۔ یہ اشیا عموماً دھات کی بنی ہوتی ہیں اور تیزاب کے رابطے میں آنے کے بعد متاثرہ جلد کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس لیے متاثرہ حصے سے تمام زیورات جلد از جلد ہٹا دینا ضروری ہے تاکہ جلد کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

ڈاکٹر نوشین کے مطابق تیزاب حملے کے بعد صرف متاثرہ حصے کو پانی سے دھونا ہی کافی نہیں، بلکہ مزید چند احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ نقصان کی شدت کو کم کیا جا سکے۔
تیزاب آلود کپڑوں کو جسم سے احتیاط سے الگ کریں
اگر کپڑوں پر تیزاب گر جائے تو سب سے پہلے تیزاب آلود کپڑوں کو جسم سے الگ کرنا چاہیے۔ تاہم، کپڑوں کو سر سے اتارنے کے بجائے قینچی کی مدد سے کاٹ کر ہٹایا جائے تاکہ تیزاب جسم کے دیگر حصوں تک نہ پہنچے۔ اگر کپڑے جسم سے چپک گئے ہوں تو انہیں زبردستی کھینچنے کے بجائے متاثرہ حصے پر زیادہ سے زیادہ بہتا ہوا پانی ڈالیں تاکہ تیزاب کا اثر کم ہو سکے۔ بعد ازاں، اگر ممکن ہو تو متاثرہ شخص کو سوتی اور ڈھیلے کپڑے پہنائے جائیں۔
گھریلو ٹوٹکوں سے گریز کریں
ڈاکٹر نوشین کے مطابق تیزاب حملے کے بعد بعض لوگ ابتدائی طبی امداد کے طور پر متاثرہ جلد پر برف، ٹوتھ پیسٹ، بیسن، ایلو ویرا، شہد، تیل، گھی، کریم، سرکہ، لیموں، بیکنگ سوڈا، روئی یا پٹی استعمال کرتے ہیں، تاہم ایسا کرنا درست نہیں۔

ان کے مطابق ان گھریلو ٹوٹکوں کا کوئی ثابت شدہ طبی فائدہ نہیں۔ اس صورتحال میں سب سے اہم اور فوری اقدام یہی ہے کہ متاثرہ جلد کو مسلسل بہتے ہوئے پانی سے دھویا جائے اور متاثرہ شخص کو بلا تاخیر ڈاکٹر یا قریبی اسپتال منتقل کیا جائے۔
اگر تیزاب نگل لیا جائے تو کیا کریں؟
ڈاکٹر نوشین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص نے تیزاب نگل لیا ہو تو اسے ہرگز الٹی نہیں کروانی چاہیے، کیونکہ الٹی کی صورت میں تیزاب دوبارہ خوراک کی نالی اور منہ سے گزرے گا، جس سے مزید جلن اور نقصان ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ شخص کو فوراً زیادہ پانی بھی نہیں پلانا چاہیے، کیونکہ تیزاب پہلے ہی خوراک کی نالی اور معدے کو متاثر کر چکا ہوتا ہے۔ اس دوران زیادہ پانی پلانے سے معدے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور معدہ پھٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر پانی پلانا ضروری ہو تو صرف چند گھونٹ ہی پلائیں۔
ایمرجنسی سروس کو فوری اطلاع دیں
ڈاکٹر نوشین کے مطابق تیزاب حملے کی صورت میں ایمرجنسی سروس کو فوری اطلاع دینا انتہائی ضروری ہے۔ کال کرتے وقت واضح طور پر بتایا جائے کہ متاثرہ شخص تیزاب حملے کا شکار ہوا ہے۔ اس سے امدادی عملہ اپنی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو بروقت طبی امداد فراہم کر سکے گا۔

ان کے مطابق اگر ایمرجنسی سروس کو پہلے ہی معلوم ہو کہ یہ تیزاب حملے کا واقعہ ہے تو وہ جلد از جلد موقع پر پہنچنے اور متاثرہ شخص کو متعلقہ اسپتال یا ماہر ڈاکٹر تک بروقت منتقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایسے واقعات میں بروقت طبی امداد انتہائی اہم ہوتی ہے، کیونکہ ہر لمحہ متاثرہ شخص کی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
طبی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب گردی کی روک تھام کے لیے قانون پر مؤثر عمل درآمد اور تیزاب کی فروخت کی سخت نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
تیزاب کی فروخت پر مؤثر نگرانی ناگزیر
تیزاب گردی کے زیادہ تر واقعات میں خواتین متاثر ہوتی ہیں، اس لیے تیزاب کی فروخت اور خریداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص تیزاب خریدنا چاہے تو اس سے اس کی خریداری کا مقصد ضرور پوچھا جائے اور اس تمام عمل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
تیزاب کنٹرول ایکٹ 2011 کے مطابق تیزاب فروخت کرنے کے لیے پولیس کا این او سی اور باقاعدہ لائسنس درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح بغیر شناختی کارڈ کے کسی بھی شخص کو تیزاب فروخت نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خریدار کا نام، پتہ اور شناختی کارڈ نمبر ریکارڈ میں درج کرنا بھی لازمی ہے۔

پاکستان میں تیزاب گردی کی روک تھام کے لیے قانون موجود ہے، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر مجرم سزا سے بچ نکلیں تو قانون کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزاب گردی میں ملوث افراد کو سخت قانونی سزا دی جائے تاکہ ایسے جرائم کی مؤثر حوصلہ شکنی ہو اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
