وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واپڈا کے ہائیڈرو پاور اور آبی وسائل کے میگا منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے سی آر بی سی لفٹ کنال، مہمند ڈیم، نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے اور درپیش رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سی آر بی سی لفٹ کنال منصوبے کے لیے زمین کی خریداری، منصوبے پر کام کرنے والے عملے کی سکیورٹی اور دیگر انتظامی امور جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صوبے کی فوڈ سکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس سے 2 لاکھ 95 ہزار ایکڑ سے زائد بنجر زمین زیر کاشت آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا، کن اضلاع کے لیے الرٹ جاری ہوا؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے باعث منصوبہ غیر ضروری تاخیر کا شکار رہا، جس سے اس کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ منصوبے کے لیے وفاق اپنے حصے کے فنڈز بروقت فراہم کرے، جبکہ صوبائی حکومت بھی اپنے وسائل مہیا کرے گی۔
بریفنگ کے مطابق منصوبہ 6 پیکجز میں مکمل کیا جا رہا ہے، جس کی تکمیل 2027 سے 2030 کے دوران متوقع ہے، جبکہ اس کی 65 فیصد فنڈنگ وفاق اور 35 فیصد صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔
مہمند ڈیم منصوبے سے متعلق وزیراعلیٰ نے رائٹ بینک ایریگیشن کنال کے لیے 81 ایکڑ اراضی کے حصول میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے اور مقامی آبادی کے لیے ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز آئندہ ایک ماہ میں جاری کرنے کی ہدایت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہمند ڈیم پر 54 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور منصوبہ ستمبر 2028 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے سے 17,742 ایکڑ اراضی زیر کاشت آئے گی، 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور پشاور کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں نیو منڈا ہیڈورکس اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے داسو منصوبے میں حائل رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اہمیت کا منصوبہ ہے اور اس کی بروقت تکمیل کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
اجلاس میں صوبائی کابینہ کے ارکان ریاض خان اور مزمل اسلم، رکن قومی اسمبلی ساجد مہمند، وفاقی سیکرٹری آبی وسائل، چیئرمین واپڈا اور دیگر وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔
