ضلع باجوڑ کے سرحدی علاقے سپرے، مندوگئی، تحصیل وارہ ماموند میں عام تیندوے کے غیر قانونی شکار کے واقعے پر محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

 

 محکمہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کے بعد ان کے خلاف خیبرپختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بایو ڈائیورسٹی ایکٹ 2015 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان: غگ ایکٹ کے مقدمے میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

 

محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اطلاع ملتے ہی رینج آفیسر اور فیلڈ اسٹاف کو جائے وقوعہ روانہ کیا گیا تاکہ تیندوے کی لاش تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔ تاہم افغانستان سے متصل دشوار گزار پہاڑی علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث پولیس نے مکمل ٹیم کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث صرف محدود تعداد میں اہلکار ریکوری کے لیے موقع پر پہنچ سکے۔ موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے رابطے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔

 

ترجمان محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات لطیف الرحمن نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ محکمہ کی اولین ترجیح ہے اور نایاب جانوروں کے غیر قانونی شکار، اسمگلنگ یا ان کے قدرتی مسکن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

 

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ غیر قانونی شکار یا جنگلی حیات سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر محکمہ یا متعلقہ حکام کو دیں تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ کو مؤثر بنایا جا سکے۔