صوبائی وزیر ایکسائز خیبرپختونخوا سید فخر جہان نے نان پریکٹسنگ ڈاکٹروں پر عائد پروفیشنل ٹیکس میں نمایاں کمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ فنانس بل 2026 میں ضروری ترامیم لائی جائیں گی تاکہ ڈاکٹروں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
یہ یقین دہانی انہوں نے انصاف ڈاکٹرز فورم کے وفد سے ملاقات کے دوران کرائی، جس میں نان پریکٹسنگ ڈاکٹروں کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں کمی، آج فی تولہ کتنا سستا ہوا؟
وزیر ایکسائز کے مطابق گریڈ 17 کے میڈیکل آفیسرز کے لیے پروفیشنل ٹیکس 40 ہزار روپے سے کم کرکے 1800 روپے سالانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ گریڈ 18 کے کنسلٹنٹس کے لیے 70 سے 80 ہزار روپے کے موجودہ ٹیکس کو کم کرکے 2100 روپے سالانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گریڈ 19 کے کنسلٹنٹس کے لیے بھی پروفیشنل ٹیکس 2400 روپے سالانہ مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے موجودہ ٹیکس شرح برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سید فخر جہان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں حکومت عوامی فلاح اور مختلف پیشہ ور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کے مطابق عوام دوست فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
وزیر ایکسائز نے کہا کہ ڈاکٹرز معاشرے کا قابل احترام طبقہ ہیں اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق نان پریکٹسنگ ڈاکٹروں کو ریلیف دینے سے طبی ماہرین کی حوصلہ افزائی ہوگی اور صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ حکومت ٹیکس نظام کو مزید منصفانہ، متوازن اور عوام دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ڈاکٹرز برادری کے تمام جائز مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
