شمال میں پگھلتی برف، میدانوں میں سموگ اور شہروں میں آلودگی... کیا یہ محض اتفاق ہے یا ایک بڑے بحران کی جھلک؟
کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور صحت مند زمین چھوڑ رہے ہیں یا ماحولیاتی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں؟
پانچ جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز 1972 میں اقوامِ متحدہ کی ماحولیات سے متعلق کانفرنس کے بعد ہوا، جبکہ پہلی مرتبہ یہ دن 1973 میں منایا گیا۔ اس کا مقصد ماحول کے تحفظ، قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور ماحولیاتی چیلنجز سے متعلق عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان: کڑی کوٹ بازار میں فائرنگ، معروف قبائلی رہنما کے دو بیٹے جاں بحق
آج دنیا موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، پانی کی قلت اور پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور خشک سالی دنیا کے مختلف خطوں میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان اثرات نے انسانی صحت، زراعت، معیشت اور قدرتی نظاموں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک میں درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن، پانی کی قلت، سموگ، جنگلات کی کٹائی اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے مسائل نمایاں ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہے ہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی آسماء کہتی ہیں کہ ان کے علاقے میں سموگ اور فضائی آلودگی سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق سردیوں میں دھواں اور دھند سانس لینے میں دشواری پیدا کرتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران گرمی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ بارشوں کا نظام بھی غیر متوقع ہو گیا ہے۔
آسماء کے مطابق ہر سال گرمی کی لہریں زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہیں اور سموگ کے باعث آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہییں۔
دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والی تحسین کے مطابق ان کے شہر میں کچرے کے ڈھیر، فضائی آلودگی اور آلودہ پانی اہم ماحولیاتی مسائل ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ موسم پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم اور غیر متوازن محسوس ہوتا ہے جبکہ نمی کے ساتھ گرمی کی شدت بعض اوقات ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق دھول اور فضائی آلودگی کی وجہ سے الرجی اور سانس کی بیماریوں کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔ تحسین کا کہنا ہے کہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے اور شہریوں میں صفائی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں محسوس کیے جانے والے یہ مسائل دراصل ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے اثرات ملک کے شمالی علاقوں سے لے کر ساحلی پٹی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے ماہرِ ماحولیات اور سینئر صحافی فضل خالق کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں گلیشیئرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں، خصوصاً ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں تقریباً سات ہزار پانچ سو گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ گلیشیئرز پاکستان کے میدانی علاقوں، بالخصوص پنجاب اور سندھ کے لیے زیرِ زمین پانی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ جب یہ گلیشیئرز پگھلتے ہیں تو ان کا پانی دریاؤں کے ذریعے ساحلی علاقوں اور سمندروں تک بھی پہنچتا ہے۔
فضل خالق کے مطابق گزشتہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران ماحولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے نے آبی وسائل اور آبپاشی کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ ان کے بقول بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
اس عمل کو "گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والا سیلاب" (GLOF) کہا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو پانی کا شدید ریلہ اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر، ملبہ اور درخت بہا لاتا ہے، جبکہ راستے میں آنے والے گھروں، پلوں، سڑکوں اور آبادیوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ مردان، راولپنڈی، لاہور اور کراچی سمیت مختلف میدانی علاقوں میں سموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
ان کے مطابق پانی کی کمی اور فضائی آلودگی سمیت مختلف عوامل سموگ کے مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف حدِ نگاہ متاثر ہوتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
فضل خالق کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا صرف مقامی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی عوامل کے باعث بھی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت اور چین سمیت دیگر صنعتی خطوں میں بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خارج ہونے والی گیسیں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان اثرات کا بوجھ پاکستان بھی برداشت کر رہا ہے، حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔
فضل خالق شمالی علاقوں میں جنگلات کی مسلسل کٹائی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ کے باعث جنگلات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کے قدرتی نظام میں تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور ماحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے تھیلوں کا بے دریغ استعمال بھی ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق پلاسٹک آسانی سے تحلیل نہیں ہوتا اور طویل عرصے تک ماحول میں موجود رہتا ہے۔
یہ دریاؤں اور سمندروں میں پہنچ کر قدرتی ماحول کو متاثر کرتا ہے، پانی کو آلودہ بناتا ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔
ان کے بقول آبی حیات، خصوصاً مچھلیاں بھی اس آلودگی سے متاثر ہو رہی ہیں جبکہ مؤثر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم (Waste Management System) کی کمی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے۔

فضل خالق کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانا ممکن ہے، بشرطیکہ اس سلسلے میں سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے خطرے سے دوچار علاقوں میں آباد آبادیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ جنگلات کی کٹائی روکنا، بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنا، صنعتی اداروں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لانا اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وہ مزید تجویز دیتے ہیں کہ سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید انتباہی نظام (Flood Alert System) نصب کیے جائیں تاکہ بروقت اطلاع کے ذریعے جانی اور مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق سوات کے بعض علاقوں میں ایسے نظام موجود ہیں اور انہیں ملک کے دیگر حصوں تک بھی توسیع دی جانی چاہیے۔
فضل خالق کے مطابق ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ماحولیات کے اثرات اور اس کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کیا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں ایک بہتر، محفوظ اور پائیدار ماحول کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
شمال میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، میدانوں میں پھیلتی سموگ اور شہروں میں بڑھتی آلودگی اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ماحولیاتی بحران اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی یومِ ماحولیات صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ اس عزم کی تجدید ہے کہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
