پشاور میں دلہ زاک روڈ انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آج خوشی کا دن ہے کیونکہ بانی چیئرمین کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی اور بحالی کے لیے 100 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ آج 200 ارب روپے مالیت کے مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترقیاتی کاموں کا آغاز پشاور سے کیا گیا ہے اور آئندہ 60 روز میں عوام واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

 

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے اور ضم شدہ اضلاع کو این ایف سی میں ان کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا اور وفاق خیبرپختونخوا کا 4 ہزار 758 ارب روپے کا مقروض ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض لوگ بیرون ملک جائیدادیں خریدتے ہیں اور ارکان اسمبلی کی منڈیاں لگاتے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز بھی ادا نہیں کیے جا رہے۔

 

 وزیراعلیٰ کے مطابق وفاق نے صوبے کے منصوبوں کے لیے صرف 50 سے 60 کروڑ روپے رکھے ہیں، لیکن وہ رقم بھی جاری نہیں کی جا رہی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ جنرل بس اسٹینڈ اور سوات ڈیم سمیت متعدد منصوبوں کے لیے وفاق این او سی جاری نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں سے ایک مخصوص سوچ خیبرپختونخوا کو ترقی سے محروم رکھے ہوئے ہے، حالانکہ یہ صوبہ پاکستان کے لیے 80 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر نئی پالیسی کا فیصلہ بند کمروں میں کیا جاتا ہے اور بانی چیئرمین کی وجہ سے وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے 7 ہزار کارکن ہر ماہ متعدد مرتبہ اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

 

گلگت بلتستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہاں ان کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ہونے والا سلوک سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام اس رویے کا جواب ووٹ کی طاقت سے دیں گے۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ آئندہ بجٹ پر مشاورت بانی چیئرمین سے کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 9 جون تک انہیں اور وزیر خزانہ کو بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئرمین کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کو کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مانسہرہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ نوجوانوں کے لیے یوتھ اور انٹرنشپ پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ ا

 

س کے علاوہ اقلیتوں اور معذور افراد کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ جعلی رپورٹس کے باوجود بانی چیئرمین نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، جبکہ بانی چیئرمین خود آنکھوں کے سنگین مسئلے کا شکار ہیں اور ان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ بانی چیئرمین کو ان کی مرضی کے مطابق علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

 

اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے پاس مزاحمت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا اور تمام پاکستانیوں کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔