سیشن کورٹ پشاور نے قتل کے ایک مقدمے کی تفتیش میں سنگین غفلت برتنے اور جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے سزا سنانے کے بعد ملزم کو فوری طور پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

 

تفتیشی افسر ہدایت اللہ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امتیاز علی نے کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے قتل کیس کی تفتیش کے دوران اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک لیبارٹری بھجوانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا، جس سے مقدمے کی تحقیقات متاثر ہوئیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونا خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، فی تولہ قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے مقدمے کی تفتیش میں نہ صرف غفلت برتی بلکہ عدالت کے سامنے جھوٹی گواہی بھی دی۔

 

 فیصلے کے مطابق ملزم نے دورانِ سماعت اعتراف کیا کہ قتل کیس کے چشم دید گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کیے گئے، جو تفتیشی عمل میں ایک سنگین کوتاہی تصور کی جاتی ہے۔

 

عدالت نے ملزم کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کا طرزِ عمل انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے مترادف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور دیانت داری کی توقع کی جاتی ہے، لہٰذا ایسی غفلت اور جھوٹی گواہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

عدالت نے ہدایت اللہ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 193 اور 186 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید کی سزا سنائی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اس نوعیت کے طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔

 

پراسیکیوشن کے مطابق فردِ جرم عائد کیے جانے کے دوران ملزم نے فرار ہونے کی کوشش بھی کی، تاہم متعلقہ حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔ عدالت نے سزا سنانے کے بعد ملزم کو فوری طور پر سینٹرل جیل پشاور منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔