پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ نے سینئر جوڈیشل آفیسر جج ہمایوں دلاور کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بنوں کی جانب سے درج مقدمہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ اینٹی کرپشن افسران کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا۔

 

جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس ثابت اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بنوں کی ایف آئی آر نمبر 02 مورخہ 9 ستمبر 2024 کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا۔ عدالت نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو 60 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں چیف منسٹر ماڈل سکولز کا منصوبہ، کتنے اضلاع مستفید ہوں گے؟

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جج ہمایوں دلاور کے خلاف انکوائری اور ایف آئی آر کا اندراج خیبر پختونخوا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 1999 اور دیگر قانونی تقاضوں کے منافی تھا۔ فیصلے کے مطابق انکوائری کے دوران غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کیا گیا، قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا اور متعدد اہم حقائق کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

 

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کے پس منظر، ریکارڈ پر موجود مواد اور واقعاتی ترتیب سے بدنیتی اور غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ایسی انکوائری کی بنیاد پر شروع کی گئی فوجداری کارروائی قانون کے عمل کا ناجائز استعمال اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔

 

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار ایک حاضر سروس سینئر جوڈیشل آفیسر ہیں، جو ماضی میں اسلام آباد میں بطور ایڈیشنل سیشن جج سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ بھی سنا چکے ہیں۔

 

عدالت نے ایف آئی آر اور اس سے منسلک تمام کارروائیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے جج ہمایوں دلاور کو مکمل قانونی ریلیف فراہم کیا اور متعلقہ اینٹی کرپشن حکام کے کردار کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

 

سماعت کے دوران درخواست گزار جج ہمایوں دلاور کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل ساول نذیر ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ شاہسوار خان ایڈووکیٹ اور ملک ذیشان خان ایڈووکیٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موجود رہے۔

 

 ریاست کی نمائندگی محمد انعام خان یوسفزئی اور اصغر احمد زئی نے بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، نجیب اللہ خان نے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ڈی ایس پی اینٹی کرپشن رضا اللہ خان نے کی۔