وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ کو مجوزہ منصوبے اور اس کے ابتدائی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے چیف منسٹر ماڈل سکولز کے قیام کے لیے قانونی فریم ورک کی تیاری کا عمل فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کا وہ خطہ جو سیاحوں کی نئی پسند بن گیا

 

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اگلے مالی سال کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مجموعی طور پر 72 چیف منسٹر ماڈل سکولز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اس منصوبے پر 9.5 ارب روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف منسٹر ماڈل سکولز میں جدید تدریسی نظام، تربیت یافتہ اساتذہ اور عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کو معیاری اور جدید تعلیم میسر آ سکے۔

 

 انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت تعلیمی شعبے کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع اور دیرپا اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جبکہ چیف منسٹر ماڈل سکولز کو صوبے میں معیاری تعلیم کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف منسٹر ماڈل سکولز کے لیے علیحدہ قانون اور قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، جبکہ ان کے انتظامی امور چلانے کے لیے ایک سنٹرلائزڈ بورڈ آف گورنرز بھی قائم کیا جائے گا۔

 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل صوبے کے روشن مستقبل اور انسانی ترقی پر سرمایہ کاری ہے، اور حکومت نوجوان نسل کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔