زالان خان آفریدی 

 

 

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا اور 11 لاکھ سے زائد سیاحوں نے صوبے کے مختلف علاقوں کا رخ کیا۔ 

 

سوات، ناران، کاغان اور گلیات بدستور سیاحوں کی پہلی پسند رہے، تاہم ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بھی تقریباً 4 لاکھ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس نے ان علاقوں میں سیاحت کے روشن مستقبل کی نشاندہی کی ہے۔

 

شمالی اور جنوبی وزیرستان کی حسین وادیاں، بلند پہاڑ، قدرتی چشمے اور روایتی ثقافت ملکی سیاحت کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: چارسدہ: شادی سے انکار پر نوجوان نے اپنی چچی کو قتل کر دیا

 

 حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد ان علاقوں میں سیاحوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے مثبت نتائج عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران بھی دیکھنے میں آئے۔ 

 

جنوبی وزیرستان میں 1  لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام ان علاقوں میں سیاحت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور بہتر سہولیات کی فراہمی سے یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

 

ضلع خیبر کے جمرود اور لنڈی کوتل بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ روزانہ پشاور اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ 

 

جمرود میں علی مسجد کا قدرتی پانی، مقامی ہوٹل اور دلکش ماحول سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جبکہ لنڈی کوتل میں مراد خان باغ، اے سی گھٹ اور تاریخی میچنی پوسٹ بھی سیاحوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر چند مقامات تک رسائی محدود ہونے سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 

 

خیبرپختونخوا میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ صوبہ نہ صرف اپنے روایتی سیاحتی مقامات بلکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی دلکش وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، قدرتی چشموں اور منفرد ثقافتی ورثے کی بدولت بھی سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس جانب سنجیدگی سے توجہ دیں تو یہ علاقے مستقبل میں پاکستان کے نمایاں ترین سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 

قبائلی اضلاع قدرتی حسن، سرسبز وادیوں، بلند پہاڑوں، قدرتی چشموں اور منفرد ثقافتی ورثے سے مالا مال ہیں۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ اپنی دلکش فضاؤں، گھنے جنگلات، سرسبز چراگاہوں اور خوشگوار موسم کے باعث سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتی ہے۔

 

 راجگال، میدان، شلوبر، ماستورہ اور سپاہ جیسے علاقے قدرتی حسن کے شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم ان مقامات کو مزید ترقی دینے اور سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کے لیے پائیدار امن، بہتر انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔

 

ضلع کرم کے پاراچنار، پیوار، شلوزان، زرن، سپینہ شگہ اور کوہ سفید کے برف پوش پہاڑ اپنی خوبصورتی میں ملک کے معروف شمالی سیاحتی مقامات کا مقابلہ کرتے ہیں۔

 

 

 اسی طرح ضلع اورکزئی کے سمانہ، کلایا، مشتی میلہ اور دیگر پہاڑی علاقے بھی قدرتی حسن سے بھرپور ہیں۔ باجوڑ، مہمند اور وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جنہیں مؤثر منصوبہ بندی، مناسب تشہیر اور بہتر سہولیات کے ذریعے قومی سطح پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

 

سیاحت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے سیاحتی مقامات کی مؤثر تشہیر کرے، رابطہ سڑکوں کو بہتر بنائے، معیاری رہائشی سہولیات اور تفریحی مراکز قائم کرے اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنائے۔ اگر ان شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے تو لاکھوں مزید سیاح ان علاقوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا۔

 

 

قدرتی چشموں اور آبی ذخائر کو محفوظ بنا کر چھوٹی جھیلوں، پکنک پوائنٹس اور دیگر تفریحی مقامات کی تعمیر نہ صرف ان علاقوں کی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ سیاحت کے فروغ سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر شعبوں میں معاشی سرگرمیاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

 

قبائلی معاشرے کی روایات ہمیشہ مہمان نوازی، عزت اور احترام پر مبنی رہی ہیں۔ ضروری ہے کہ مقامی آبادی سیاحوں کو مہمان سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ خوش اخلاقی، رواداری اور تعاون کا رویہ اختیار کرے۔ اگر کسی سیاح سے لاعلمی میں کوئی معمولی غلطی سرزد ہو جائے تو برداشت اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ وہ خوشگوار یادیں اور مثبت تاثرات اپنے ساتھ لے کر واپس جائیں۔

 

سیاحت محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ مقامی معیشت کے استحکام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کسی بھی علاقے کی مثبت شناخت اجاگر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ 

 

وقت کا تقاضا ہے کہ قبائلی اضلاع کے قدرتی خزانوں، ثقافتی ورثے اور سیاحتی مقامات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں متعارف کرایا جائے تاکہ یہ علاقے بھی سوات، ناران، کاغان اور گلیات کی طرح پاکستان کے نمایاں سیاحتی مراکز کے طور پر ابھر سکیں۔