“میں نے اپنی چچی کو نکاح کے لیے اغوا کیا تھا، جب اُس نے انکار کیا تو تشدد کیا اور وہ جان سے گئی۔”
یہ بیان چارسدہ کے ایک ایسے مقدمے میں گرفتار ملزم سے منسوب ہے جس نے نہ صرف ایک خاتون کی جان لے لی بلکہ ایک بار پھر معاشرے کے سامنے یہ سوال بھی رکھ دیا کہ پاکستان میں خواتین کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے اور انکار کرنے کی کتنی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تھانہ خانمائی کی حدود میں واقع عمر آباد کی رہائشی ایک خاتون، مسماۃ (ع)، مبینہ طور پر اپنے ہی شوہر کے بھتیجے کے ہاتھوں قتل کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق خاتون کے شوہر نے 26 مئی کو تھانہ خانمائی میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ ان کی اہلیہ کو ان کے بھتیجے اور دیگر افراد نے اغوا کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: آندھی، بارش اور آسمانی بجلی سے کتنے افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے؟
پولیس حکام کے مطابق بعد ازاں گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ اپنی چچی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ تاہم خاتون کی جانب سے انکار کیے جانے پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
تحقیقات کے مطابق قتل کے بعد ملزم نے جرم چھپانے کے لیے لاش کو کھیتوں میں دفن کر دیا۔ بعد میں شواہد مٹانے کی غرض سے لاش کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش بھی کی گئی، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش برآمد کر لی۔
مقدمے میں نامزد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے عدالتی حکم پر جیل بھیج دیا گیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات مسلسل تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
وزارتِ انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں قتل، اغوا، گھریلو تشدد اور جنسی جرائم شامل ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق 2024 میں خواتین کے خلاف تشدد کے 5 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 6 ہزار 500 سے تجاوز کر گئی۔ یہ اعداد و شمار ایک سال کے دوران تقریباً 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ ہونے والے واقعات اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ معاشرتی دباؤ، بدنامی کے خوف، خاندانی مصلحتوں اور پیچیدہ قانونی عمل کے باعث متعدد متاثرہ خواتین یا ان کے اہل خانہ مقدمات درج ہی نہیں کراتے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ضائمہ منیر کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد کے بہت سے واقعات میں ملزمان اجنبی نہیں بلکہ متاثرہ خواتین کے اپنے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ ان کے بقول چارسدہ کا حالیہ واقعہ بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مقتولہ کا مبینہ قاتل اس کا اپنا بھتیجا بتایا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس بھی اس رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا بھر میں قتل ہونے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے قریبی رشتہ داروں یا شریکِ حیات کے ہاتھوں جان سے جاتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں صرف ملزم کی گرفتاری کافی نہیں ہوتی بلکہ مضبوط تفتیش اور ناقابلِ تردید شواہد کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی تفتیش میں خامیاں رہ جائیں تو بعد میں عدالت میں مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شبیر حسین گگیانی کے مطابق اگر پولیس بروقت جسمانی ریمانڈ حاصل نہ کرے یا شواہد اکٹھے کرنے میں تاخیر کرے تو ملزم کو شواہد ضائع کرنے، گواہوں پر اثر انداز ہونے یا مقدمے میں قانونی کمزوریاں پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
پاکستان میں ماضی کے متعدد سنگین مقدمات میں بھی ناقص تفتیش اور کمزور شواہد کو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ملزمان عدالتوں سے بری ہوئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، معیاری تفتیش، فوری انصاف اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ بصورتِ دیگر ایسے واقعات محض اعداد و شمار میں اضافے کا سبب بنتے رہیں گے جبکہ متاثرہ خاندان خاموشی سے اپنے پیاروں کو کھوتے رہیں گے۔
