بنوں کے علاقے بازار احمد خان کے رہائشی حامد نواز نے اپنے والد نواز خان، بھائی ساجد نواز اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چند روز قبل 25 سے 30 مسلح افراد ان کے گھر آئے اور دعویٰ کیا کہ ان کے ایک بھائی پر چار کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان افراد کو بتایا گیا کہ وہ غریب اور محنت کش لوگ ہیں اور اپنے بھائی کے مالی معاملات سے مکمل طور پر لاعلم ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو روز بعد تھانہ صدر کی پولیس بھی انہی افراد کے ہمراہ ان کے گھر پہنچی اور معاملہ حل کرنے کے لیے عید کے پانچویں روز تھانے آنے کو کہا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونا مزید سستا، قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی ریکارڈ
مقررہ روز وہ اپنی فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر موجود تھے کہ ایک گاڑی وہاں پہنچی اور ان کے بھائی صابر نواز کو، جو دبئی سے گردوں کے علاج اور آپریشن کی غرض سے وطن آئے ہوئے ہیں، زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی۔
حامد نواز کے مطابق وہ اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ تھانہ صدر پہنچے، جہاں سہ پہر تک مسلح افراد اسلحہ سمیت موجود رہے۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ مزید بات چیت کے لیے تھانہ میراخیل جانا ہوگا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں تھانے کے بجائے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
ان کے بقول راستے میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے اور ان کی نگرانی میں انہیں وہاں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں ایک اسکول میں یرغمال بنایا گیا، جہاں بعد ازاں انہیں اور ان کے والد کو چھوڑ دیا گیا جبکہ صابر نواز کو اپنے پاس رکھا گیا۔ ان کے مطابق مبینہ اغوا کاروں نے دھمکی دی کہ اگر مطلوبہ رقم ادا نہ کی گئی تو صابر نواز کو قتل کر دیا جائے گا۔
حامد نواز نے کہا کہ جس بھائی کے ساتھ مالی تنازعہ بتایا جا رہا ہے وہ عمان میں مقیم ہے، جبکہ انہیں اور ان کے بیمار بھائی کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مذکورہ مالی معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہیں اس کی تفصیلات کا علم ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جن افراد نے انہیں مبینہ طور پر اغوا کیا وہ ان کے لیے نامعلوم ہیں، تاہم پولیس ان افراد سے واقف ہے۔
انہوں نے حکومت، پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، صابر نواز کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات متاثرہ خاندان کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران عائد کیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
