دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مگر اس ترقی کے ساتھ انسان کی زندگی سے ذہنی سکون بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سات میں سے ایک نوجوان کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی ذہنی دباؤ، بے چینی اور نفسیاتی مسائل میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری، غیر ضروری مقابلہ بازی، سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال اور تنہائی نوجوانوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ذہنی سکون صرف وقتی خوشی یا کامیابی کا نام نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو اندر سے مطمئن، پُرسکون اور متوازن محسوس کرے۔ مگر آج کے نوجوان لوگ مسلسل دباؤ، خوف، غیر حقیقی توقعات، حادثات اور دوسروں سے موازنہ کرنے کی وجہ سے ذہنی تھکن کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
سوات کے علاقے منگلور سے تعلق رکھنے والی شیرین بھی انہی نوجوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک گہرے صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کو محسوس کیا۔
شیرین بتاتی ہیں:
“جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میری زندگی جیسے بدل گئی تھی۔ ہر چیز سے نفرت ہونے لگی تھی، نہ کسی سے بات کرنے کو دل چاہتا تھا اور نہ ہی کسی سرگرمی میں حصہ لینے کا۔ مجھے لگتا تھا جیسے میری دلچسپی ہر چیز سے ختم ہو چکی ہے۔”

وہ کہتی ہیں کہ ان کی خاموشی اور ذہنی کیفیت کو سمجھنے کے بجائے لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
“لوگ مجھے سست کہتے تھے، جس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اکثر لوگوں کو لگتا تھا کہ میں بہانے بنا رہی ہوں، حالانکہ اندر سے میں شدید ذہنی دباؤ میں تھی۔”
شیرین کے مطابق مشکل وقت میں خاندان کی حمایت انسان کے لیے سب سے بڑا سہارا ثابت ہوتی ہے۔
“گھر والوں کی حوصلہ افزائی انسان کو دوبارہ سنبھلنے کی طاقت دیتی ہے۔ میری والدہ نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ بعد میں علاج اور رہنمائی کے دوران جن باتوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا، میں نے انہیں اپنانے کی کوشش کی اور آہستہ آہستہ میری حالت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔”
ذہنی دباؤ صرف غم یا اداسی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات خوف بھی انسان کے ذہن پر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہنگو: تالاب میں نہاتے ہوئے 4 افغان بچے جاں بحق، ایک کو بچا لیا گیا
سمبٹ سوات سے تعلق رکھنے والی نوشین کہتی ہیں:
“مجھے بچپن سے مکڑیوں سے بہت ڈر لگتا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ خوف مزید بڑھتا گیا۔ رات کو سوتے وقت بار بار یہی خیال آتا تھا کہ کہیں میرے بستر میں مکڑی موجود نہ ہو۔”
وہ بتاتی ہیں کہ مسلسل خوف نے ان کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالا۔
“کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے میرے آس پاس واقعی مکڑیاں موجود ہیں، مگر جب میں گھر والوں کو بتاتی تو کسی کو کچھ نظر نہیں آتا تھا، اور اس کیفیت کے دوران لوگوں کی باتیں اور رویّے مجھے مزید پریشان کر دیتے تھے۔”
نوشین کے مطابق بعد میں انہوں نے دینی رہنمائی حاصل کی۔
“ایک دینی عالم نے مجھے آیت الکرسی پڑھنے، نماز کی پابندی کرنے، روزمرہ کاموں میں خود کو مصروف رکھنے اور غیر ضروری سوچوں سے بچنے کا مشورہ دیا۔ جب میں نے ان باتوں پر عمل شروع کیا تو میری طبیعت بہتر ہونے لگی اور ذہنی سکون محسوس ہونے لگا۔”

ذہنی دباؤ اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے مدرس جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن اوڈیگرام اور پیش امام جامع مسجد اتات خیل غالیگے، معاذ اللہ، کہتے ہیں کہ جدید دور میں نوجوان شدید ذہنی اور روحانی خلا کا شکار ہو رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“آج نوجوان دنیاوی مقابلہ بازی، معاشی مسائل، حادثات، دوسروں کی چمکتی زندگیوں اور جلد کامیاب ہونے کی خواہش میں ذہنی سکون کھو بیٹھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی آسائشیں دیکھ کر نوجوان اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، جس سے احساسِ کمتری اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔”
مولوی معاذ اللہ کے مطابق اسلام ذہنی سکون کے لیے امید، صبر اور اللہ سے مضبوط تعلق کو بنیادی حل قرار دیتا ہے۔
“جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ قرآن انسان کو مایوسی سے بچنے اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔”

انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‘ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔’ یہی احساس انسان کو تنہائی سے نکال کر امید اور حوصلہ دیتا ہے۔”
مولوی معاذ اللہ کے مطابق ذہنی مسائل کو صرف کمزور ایمان قرار دینا درست نہیں۔
“اسلام دعا کے ساتھ علاج کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ جس طرح جسمانی بیماری کا علاج ضروری ہے، اسی طرح ذہنی دباؤ کی صورت میں ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔ دعا اور دوا دونوں انسان کو سکون دیتے ہیں۔”
سوات یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فہیم کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے، مگر معاشرے میں آج بھی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
ڈاکٹر فہیم کہتے ہیں:
“ذہنی صحت انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اگر انسان ذہنی طور پر پُرسکون نہ ہو تو وہ نہ اپنی تعلیم پر بہتر توجہ دے سکتا ہے، نہ کام میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے تعلقات کو متوازن رکھ سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ جسمانی بیماری کو تو بیماری سمجھتے ہیں، مگر ذہنی مسائل کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔”
ان کے مطابق نوجوان اس وقت مسلسل دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔
“مہنگائی، بے روزگاری، خاندانی مسائل، تعلیمی دباؤ، غیر ضروری مقابلہ بازی اور سوشل میڈیا نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔ نوجوان دوسروں کی مہنگی چیزیں، آسائشیں اور کامیابیاں دیکھ کر خود کو پیچھے محسوس کرنے لگتے ہیں، جس سے احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔ یہی احساس بعد میں بے چینی، مایوسی اور ذہنی تھکن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔”
ڈاکٹر فہیم کہتے ہیں کہ بعض اوقات خوف انسان کے ذہن پر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقت محسوس ہونے لگتا ہے۔
“کچھ لوگ سانپ، مکڑی، اندھیرے یا کسی حادثے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب انسان مسلسل انہی باتوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے تو ذہن خوف کو حقیقت کی طرح محسوس کرنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ موجود نہیں ہوتا۔”
ان کے مطابق حد سے زیادہ موبائل فون کا استعمال اور تنہائی بھی ذہنی دباؤ میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
“آج لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔ حقیقی گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے اور یہی تنہائی انسان کو ذہنی طور پر کمزور بناتی ہے۔”
ڈاکٹر فہیم کے مطابق ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔
“انسان کو وقت پر سونا اور جاگنا چاہیے، متوازن غذا استعمال کرنی چاہیے، روزانہ ورزش یا چہل قدمی کرنی چاہیے اور خود کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کم کرنا چاہیے اور دوسروں سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی زندگی کے مقصد پر توجہ دینی چاہیے۔”

وہ مزید کہتے ہیں:
“انسان کو صرف اپنے مسائل کے بارے میں سوچتے نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کے حل کے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے۔ صرف پریشان رہنے کے بجائے اپنے مسائل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں، کیونکہ عملی کوشش انسان کو آہستہ آہستہ ذہنی سکون کی طرف لے جاتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
کہ اکثر لوگ علاج کرنے اور مشورت لینے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ کہیں معاشرے میں لوگ مذاق نہ بنائے انکا ۔
“اپنی پریشانیوں کو دل میں دبانے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ ذہنی مسائل پر مشورہ لینا یا مدد مانگنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔ خاندان، دوست، اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات مشکل وقت میں انسان کو حوصلہ اور رہنمائی دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مطالعہ، عبادات، فطرت کے قریب وقت گزارنا اور اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی ذہنی سکون بحال کرنے میں مدد دیتا ہے۔”
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہی بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔ مناسب رہنمائی، خاندان کی حمایت، مثبت سرگرمیوں، عبادات، مشاورت اور متوازن طرزِ زندگی کے ذریعے ذہنی سکون دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو بروقت توجہ، سمجھ اور سہارا دیا جائے تو وہ نہ صرف ذہنی دباؤ پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ ایک پُرسکون اور بہتر زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
