وفاقی حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باعث خیبر پختونخوا کو رواں مالی سال میں 220 ارب روپے کم ملنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہونے، نئے منصوبوں میں تاخیر اور مالی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے صوبے کو وفاق سے ایک ہزار 507 ارب روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم مارچ 2026 تک پہلے 9 ماہ میں صرف 851 ارب روپے ہی موصول ہوسکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کے ذریعے صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ، پاور ڈویژن کی وارننگ
وفاقی محاصل میں سست روی اور ٹیکس وصولیوں میں کمی کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ کم کرکے ایک ہزار 287 ارب روپے مقرر کردیا ہے۔ اس طرح ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں صوبے کو 220 ارب روپے کم ملنے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایران۔امریکہ کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کے باعث وفاقی حکومت کو مالی اہداف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اپنے جاری اخراجات، سرکاری تنخواہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑی حد تک وفاقی فنڈز پر انحصار کرتا ہے، ایسے میں وفاقی محاصل میں کمی صوبے کے مالی نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق 220 ارب روپے کی ممکنہ کمی کے باعث صوبائی حکومت کو سرپلس بجٹ برقرار رکھنے میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجرا میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
