ہم میں سے اکثر لوگوں نے کبھی نہ کبھی یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ سوتے وقت منہ کھلا رہ جاتا ہے، یا پھر ہم نے کسی دوسرے شخص کو نیند کے دوران اس حالت میں دیکھا ہوتا ہے۔

 

 ابتدا میں یہ کیفیت معمولی محسوس ہوتی ہے اور اسے محض ایک عادت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تاہم اگر یہ مسئلہ بار بار سامنے آنے لگے تو یہ جسم کی جانب سے کسی اندرونی خرابی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بظاہر معمولی علامت بھی بعض اوقات کسی بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت میں وزارتوں کی تقسیم، اہم محکمے کن رہنماؤں کو ملے؟

 

اس حوالے سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے وابستہ معروف کان، ناک، حلق (ENT) کے ماہر، ڈاکٹر سعادت اللہ ولیم کے مطابق نیند کے دوران منہ کھلا رہنا زیادہ تر ناک، گلے یا سانس کے نظام سے متعلق اندرونی مسائل کی علامت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس کیفیت کی بروقت نشاندہی کر لی جائے تو بعد میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

 

نیند کے دوران منہ کھلنے کی ایک بڑی وجہ ناک کا بند ہونا ہے۔ جب ناک سے سانس لینا مشکل ہو جائے تو جسم فطری طور پر منہ کے ذریعے سانس لینا شروع کر دیتا ہے۔ یہی صورتحال نزلہ یا زکام کے دوران بھی دیکھی جاتی ہے۔ نیند میں بھی یہی عمل جاری رہتا ہے اور فرد کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

 

 

الرجی بھی اس مسئلے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ دھول، مٹی یا موسم کی تبدیلی کے باعث ناک کے اندر سوجن پیدا ہو جاتی ہے، جس سے سانس کی نالی تنگ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً انسان ناک کے بجائے منہ سے سانس لینے لگتا ہے اور یہ عادت نیند کے دوران زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

 

بچوں میں یہ مسئلہ نسبتاً زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ کئی بچوں میں ٹانسلز (گلے کے غدود) یا ایڈینوئڈ (ناک کے پچھلے حصے میں اضافی گوشت) بڑھ جانے کی وجہ سے ہوا کا راستہ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے بچے ناک سے مناسب سانس نہیں لے پاتے اور نیند کے دوران منہ کھلا رہ جاتا ہے۔ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا جائے تو یہ ان کی نیند، صحت اور نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

 

سونے کی پوزیشن بھی اس کیفیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ سیدھا لیٹنے کی صورت میں بعض افراد کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے جبکہ کروٹ لے کر سونے سے سانس نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض افراد کے جبڑے یا چہرے کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ نیند کے دوران منہ خود بخود کھل جاتا ہے۔

 

 

اگر نیند کے دوران خراٹے یا سانس رکنے کی علامات ظاہر ہوں تو یہ سلیپ ایپنیا (Sleep Apnea) کی نشانی ہو سکتی ہے، جو ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے۔ ایسے افراد میں صبح کے وقت تھکن، کمزوری اور بے چینی عام طور پر دیکھی جاتی ہے، چاہے نیند پوری کی گئی ہو۔

 

اس مسئلے کے نتیجے میں سب سے عام اثر منہ کا خشک ہونا ہے۔ نیند کے دوران منہ کھلا رہنے سے تھوک کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس سے بیکٹیریا بڑھتے ہیں اور سانس میں بدبو پیدا ہو سکتی ہے۔

 

اس کے ساتھ گلے میں خشکی، خراش اور جلن بھی دیکھنے میں آتی ہے، کیونکہ رات بھر منہ کھلا رہنے سے گلا خشک رہتا ہے۔ یہ کیفیت بار بار ہو تو گلے کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

 

دانتوں کی صحت بھی اس مسئلے سے متاثر ہوتی ہے۔ تھوک کی کمی کے باعث منہ کی قدرتی صفائی کم ہو جاتی ہے، جس سے کیویٹیز اور مسوڑھوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

نیند کے معیار پر بھی اس کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ نیند پوری ہونے کے باوجود تھکن محسوس ہونا اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ نیند کے دوران سانس کی روانی متاثر رہی ہے، جس کی وجہ سے گہری نیند حاصل نہیں ہو پاتی۔

 

 

علاج کا انحصار ہمیشہ اصل وجہ پر ہوتا ہے۔ اگر ناک بند ہو تو اس کا علاج کیا جاتا ہے، اگر الرجی ہو تو اسے کنٹرول کیا جاتا ہے، اور اگر مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو تو باقاعدہ طبی علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونے کی پوزیشن بہتر بنانا، کمرے کی صفائی کا خیال رکھنا اور پانی کا مناسب استعمال بھی اس کیفیت میں بہتری لانے میں مدد دیتا ہے۔

 

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نیند کے دوران منہ کھلا رہنا اگرچہ ایک عام مسئلہ ہے، لیکن اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کبھی محض ایک عادت ہوتی ہے اور کبھی جسم کی جانب سے ایک اہم اشارہ بھی ہو سکتا ہے، جس پر بروقت توجہ دینا ضروری ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔