پشاور میں افغان مہاجرین کی بے دخلی کے لیے جاری کارروائیوں سے بچنے کی غرض سے غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرانے اور انہیں پاکستانی شہریوں کے شجرہ نصب  (FRC) میں شامل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

فقیرآباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں ایجنٹس اور افغان باشندے بھی شامل ہیں، جبکہ اس نیٹ ورک میں نادرا اہلکاروں کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

 

ایس پی فقیرآباد ریشم جہانگیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اعتزاز، سلیمان خان، نسیم شاہ، فواد، عرفان اجمل، آصف اور قاری بشیر سمیت دیگر ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ فقیرآباد کے ایک گھر میں افغان فیملی کے لیے شناختی کارڈ بنانے کی ڈیل کر رہے تھے۔ کارروائی کے دوران اہم دستاویزات بھی برآمد کرلی گئیں۔

 

 گرفتار ملزمان کا تعلق فقیرآباد، کینٹ، بڈھ بیر اور نوشہرہ سمیت مختلف علاقوں سے ہے۔

 

ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ گروہ گزشتہ 8 سے 9 ماہ سے مختلف اضلاع میں سرگرم تھا اور ایجنٹس کے ذریعے ایسے کمزور اور ضرورت مند پاکستانی شہریوں کو تلاش کرتا تھا جن کے خاندانی اور شناختی دستاویزات استعمال کیے جا سکیں۔

 

 

بعد ازاں ملزمان 15 سے 16 لاکھ روپے کے عوض غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ان پاکستانی شہریوں کے شجرہ نسب (فیملی ٹری) میں شامل کرتے اور ان کے لیے سرکاری دستاویزات تیار کرواتے تھے۔ رقم وصول کرنے کے بعد رقوم آپس میں تقسیم کی جاتی تھیں جبکہ کچھ حصہ ان افراد کو بھی دیا جاتا تھا جن کی فیملی ٹری یا ڈیٹا استعمال کیا جاتا تھا۔

 

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بعض غیر ملکی عناصر اور ان کے سہولت کار حساس معلومات جمع کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں، جس پر پولیس اور دیگر حساس ادارے مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

 

ابتدائی طور پر دو افغان باشندوں سمیت 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نیٹ ورک صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی پھیلا ہوا ہے۔

 

 اس کے علاوہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی عمل میں بعض نادرا اہلکار بھی ملوث ہو سکتے ہیں، جس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے سے رابطہ کیا جائے گا۔

 

پولیس کے مطابق یہ گروہ ممکنہ طور پر بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی غیر قانونی طریقے سے شناختی کارڈ تیار کرتا تھا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر افراد اور اس کے وسیع رابطوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔