آمنہ سالارزئی  

 

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں آج کل نوجوانوں کے درمیان برانڈڈ اشیاء کا بڑھتا ہوا رجحان عام ہوچکا ہے۔ آپ نے اکثر نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا، “یہ چیز فلاں برانڈ کی ہے، بہت مہنگی خریدی ہے۔” بظاہر یہ صرف ایک جملہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کی بدلتی ہوئی سوچ اور ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔

 

 اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ انسان کی شخصیت، معیارِ زندگی اور سماجی مقام کو اکثر اس کے لباس، موبائل فون، جوتوں یا گھڑی کے برانڈ سے جانچا جانے لگا ہے۔ یہی رجحان نوجوان نسل پر نہ صرف مالی بلکہ ذہنی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔

 

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ برانڈ دراصل کیا ہوتا ہے؟

 

برانڈ کسی ایسی مصنوع یا سروس کو کہا جاتا ہے جو کسی مخصوص کمپنی، نام، لوگو یا سلوگن کے تحت تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کی جائے۔ برانڈ کا مقصد صرف چیزیں فروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کے ذہن میں اپنی ایک الگ پہچان اور اعتماد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: قربانی کے جانور خریدنے ساہیوال جانے والا مردان کا نوجوان لاپتہ

 

 گینیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کا پہلا باقاعدہ برانڈ 1885ء میں برطانیہ میں متعارف کروایا گیا، جو ایک سیرپ تھا اور بیکنگ میں استعمال ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ برانڈز نے پوری دنیا کی معیشت، تجارت اور لوگوں کی سوچ پر گہرا اثر ڈالنا شروع کردیا۔

 

آج نوجوان عام اشیاء کے مقابلے میں برانڈڈ چیزوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ برانڈز اب صرف ضرورت نہیں رہے بلکہ فیشن اور سماجی حیثیت کی علامت بن چکے ہیں۔

 

 

 نوجوان اکثر برانڈڈ کپڑے، جوتے، گھڑیاں اور موبائل فون اپنی ضرورت سے زیادہ دوسروں پر اثر ڈالنے کیلئے خریدتے ہیں۔

 

 کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی طلبہ ایک دوسرے سے مقابلے کی فضا میں رہتے ہیں، جہاں اکثر تعلیم، صلاحیت اور کردار سے زیادہ ظاہری نمائش کو اہمیت دی جاتی ہے۔

 

 سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مہنگی زندگی، قیمتی برانڈز اور آسائشوں کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ عام نوجوان خود کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

 

اکثر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگی چیز لازماً اعلیٰ معیار کی ہوگی، جبکہ سستی چیز غیر معیاری ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت ہمیشہ ایسی نہیں ہوتی۔ کئی مقامی مصنوعات معیار میں بہترین ہونے کے باوجود صرف اس لیے نظر انداز کردی جاتی ہیں کیونکہ ان پر کسی عالمی یا قومی برانڈ کا نام نہیں لکھا ہوتا۔

 

 یہی سوچ آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے کو دو طبقات میں تقسیم کررہی ہے؛ ایک وہ جو مہنگے برانڈز خرید سکتے ہیں اور دوسرے وہ جو ان چیزوں کو نہ خرید پانے کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ بعض نوجوان اصل برانڈ خریدنے کی استطاعت نہ ہونے پر جعلی یا نقل شدہ مصنوعات خریدنے لگتے ہیں تاکہ دوسروں کے سامنے اپنی جھوٹی شان قائم رکھ سکیں۔

 

 بازاروں میں جعلی برانڈز کی بھرمار اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اب اس کے اخلاق، کردار اور صلاحیت کے بجائے اس کے استعمال کردہ برانڈز سے جوڑی جانے لگی ہے۔

 

 

اس رجحان کے ذہنی اثرات بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ آج نوجوانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر وقت دوسروں جیسا نظر آنے کی کوشش، مہنگی اشیاء خریدنے کی خواہش اور سوشل میڈیا پر ایک مصنوعی زندگی دکھانے کی دوڑ انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔ 

 

برانڈڈ چیز خریدنے کی خوشی صرف چند دن رہتی ہے، پھر فوراً کسی نئے ماڈل یا نئے رجحان کی خواہش جنم لینے لگتی ہے۔ یوں انسان کبھی مطمئن نہیں ہوپاتا کیونکہ اس کی خوشی چیزوں سے وابستہ ہوجاتی ہے، جبکہ اصل سکون قناعت اور خود اعتمادی میں ہوتا ہے۔

 

خاص طور پر موبائل فونز کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہر چند ماہ بعد کمپنیاں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نیا ماڈل متعارف کرواتی ہیں اور نوجوان نسل ان کے پیچھے بھاگنے لگتی ہے۔ اکثر نوجوان صرف دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے مہنگے فون خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں، جس سے والدین پر مالی دباؤ بڑھتا ہے اور فضول خرچی کو فروغ ملتا ہے۔

 

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برانڈڈ اشیاء خریدنا کوئی برائی نہیں، کیونکہ کئی برانڈز معیاری مصنوعات فراہم کرتے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ضرورت کی جگہ دکھاوا لے لیتا ہے اور انسان اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنا شروع کردیتا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور سوچ سے ہوتی ہے، نہ کہ کپڑوں، جوتوں یا موبائل فون کے برانڈ سے۔ برانڈز زندگی کا حصہ ہوسکتے ہیں، مگر زندگی کا مقصد نہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔