پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں صوبے میں امن و امان، سی این جی اسٹیشنز کی بندش، گندم کی ترسیل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سی این جی کی بندش آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس فیصلے سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی قلت اور مہنگائی بھی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب راہداری فراہم کرے تو خیبرپختونخوا سندھ سے گندم حاصل کرسکتا ہے، تاہم راہداری نہ ملنے کے باعث صوبے کو گندم مہنگے داموں خریدنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت خیبرپختونخوا کو گندم فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔
ملاقات میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، وزیر اطلاعات شفیع جان اور چیف سیکرٹری بھی موجود تھے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ساؤتھ ایشیا کامن ویلتھ ویمن پارلیمنٹیرینز کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو صوبے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد سے صوبے کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا اور خواتین پارلیمنٹیرینز کے درمیان روابط کو فروغ ملے گا۔
ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ گورنر نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ دیگر صوبوں کی پولیس کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لے کر سفارشات صوبائی حکومت کو ارسال کی جائیں۔
