پاکستان میں جب بھی کسی ہائی پروفائل شخصیت کی گرفتاری ہوتی ہے تو عوام کی توجہ صرف مقدمے یا الزامات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس بات پر بھی جاتی ہے کہ گرفتار شخص کے ساتھ برتاؤ کس انداز میں کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی کا کیس بھی سوشل میڈیا اور عوامی بحث کا بڑا موضوع بن گیا ہے۔
لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان پر سنگین الزامات تھے تو انہیں عام ملزمان کی طرح ہتھکڑی کیوں نہیں لگائی گئی اور عدالت میں پیشی کے دوران نسبتاً نرم رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بارش اور تیز ہوائیں کہاں چلیں گی؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی سامنے آگئی
انمول عرف پنکی کا تعلق ماڈلنگ اور فیشن انڈسٹری سے بتایا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران ان کی ملاقات ایک پولیس افسر رانا ناصر سے ہوئی، جس کے ذریعے وہ مبینہ طور پر منشیات نیٹ ورک سے منسلک ہوئیں۔
بعد ازاں ان پر یہ بھی الزام سامنے آیا کہ انہوں نے اپنا ایک الگ نیٹ ورک بنایا جو لاہور، کراچی اور راولپنڈی تک پھیلا ہوا تھا اور مختلف ذرائع سے منشیات کی ترسیل میں ملوث تھا۔ اسی کے ساتھ ان پر ماضی میں پولیس اہلکاروں پر رشوت اور بدعنوانی کے الزامات لگانے کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم یہ تمام باتیں تفتیشی سطح پر ہیں اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
پاکستان میں ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ غریب یا متوسط طبقے کے افراد کو گرفتاری کے وقت سخت رویے اور ہتھکڑی کے ساتھ میڈیا کے سامنے لایا جاتا ہے، جبکہ بااثر یا مشہور شخصیات کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
یہی فرق عوام میں “وی آئی پی کلچر” اور انصاف کے غیر مساوی ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔
یہ بحث نئی نہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال ماڈل ایان علی کا کیس ہے، جنہیں 2015 میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ کیس طویل عرصے تک میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز رہا۔ عدالت میں ان کی پیشیوں کے انداز اور میڈیا کوریج نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ شہرت اور اثر و رسوخ قانونی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انمول عرف پنکی کے کیس نے بھی اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ گرفتاری کے وقت ہتھکڑی کیوں نہیں لگائی گئی اور پیشی کے دوران رویہ مختلف کیوں تھا۔
اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا انصاف واقعی سب کے لیے ایک جیسا ہے یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہر گرفتار شخص کو ہتھکڑی لگانا ضروری نہیں۔ یہ فیصلہ حالات، سکیورٹی خطرے اور فرار کے امکان کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
خواتین ملزمان کے معاملے میں بھی اکثر انسانی پہلو کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ قانون نہیں بلکہ اس کے اطلاق اور عوامی تاثر کا ہے۔

میڈیا کوریج بھی اس تاثر کو مزید بڑھا دیتی ہے، جہاں مقدمے کی تفصیل کے بجائے گرفتاری کے مناظر، انداز اور شخصیت زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یوں اصل قانونی بحث پیچھے رہ جاتی ہے اور عوامی رائے جذباتی سمت اختیار کر لیتی ہے۔
اصل سوال ہتھکڑی کا نہیں بلکہ انصاف کے یکساں معیار کا ہے۔ جب ایک عام شہری اور ایک بااثر شخصیت کے ساتھ مختلف رویہ نظر آئے تو اعتماد متاثر ہونا لازمی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے کیسز صرف عدالتی نہیں رہتے بلکہ ایک بڑے سماجی سوال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کہ کیا پاکستان میں واقعی سب کے لیے قانون برابر ہے؟
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
