خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (کے پی پی آر اے) نے مختلف اضلاع میں سولرائزیشن، الیکٹریکل اور مکینیکل منصوبوں کے ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیوں پر کارروائی کرتے ہوئے 11 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) کے ٹینڈرز کو ’مس پروکیورمنٹ‘ قرار دے کر کالعدم کر دیا۔
کے پی پی آر اے کے رجسٹرار آف اپیلز شاہد حسین نے نعمان کنڈی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کی، جس کے بعد تخت نصرتی، گمبت، جنڈولہ، لاچی، تخت بائی، بابوزئی، لوکل گورنمنٹ پشاور، لعل قلعہ، اپر مہمند اور لوئر مہمند سمیت مختلف ٹی ایم ایز کے ٹینڈرز متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی کمی
اتھارٹی کے فیصلے کے مطابق منصوبوں میں پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کی معیاری بڈنگ دستاویزات اور لازمی شرائط کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ شکایات کے ازالے کے قانونی طریقہ کار پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
کے پی پی آر اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام منصوبوں کے لیے قوانین کے مطابق ازسرِ نو پروکیورمنٹ عمل شروع کیا جائے، جبکہ انتظامی محکمے کو ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
