ضلع خیبر میں صحت کی سہولیات کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے، جہاں 64 میں سے 10 صحت مراکز غیر فعال یا جزوی طور پر بند ہیں، جبکہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندانوں کی باڑہ منتقلی کے بعد ڈوگرہ ٹائپ ڈی ہسپتال پر مریضوں کا دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ہسپتال کو فوری طور پر کیٹیگری سی میں اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق ضلع خیبر میں قائم 64 صحت مراکز میں سے 54 فعال ہیں، جبکہ 7 مکمل طور پر غیر فعال اور 3 جزوی طور پر بند ہیں۔ ان مراکز کی بندش کے باعث خصوصاً دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل سمیت 4 ٹائپ ڈی ہسپتال قائم ہیں، جن میں سے 3 فعال جبکہ ایک غیر فعال ہے۔ فعال ہسپتالوں میں ڈوگرہ ٹائپ ڈی ہسپتال باڑہ، ٹائپ ڈی ہسپتال بازار زخہ خیل اور ٹائپ ڈی ہسپتال جمرود شامل ہیں، جبکہ ٹائپ ڈی ہسپتال باغ میدان تیراہ غیر فعال ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: کن علاقوں میں صحت مراکز بند پڑے ہیں اور مریض علاج کے لیے کہاں جا رہے ہیں؟
محکمہ صحت خیبر کی دستاویزات میں ڈوگرہ ہسپتال کو کیٹیگری سی میں اپ گریڈ کرنے کے عمل کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم مقامی عوام کے مطابق یہ منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع خیبر میں 2 آر ایچ سی، 12 بی ایچ یوز، 27 ڈسپنسریز اور 19 سی ایچ سیز قائم ہیں۔ تاہم وادی تیراہ میں بدامنی، سکیورٹی آپریشنز اور عملے کی کمی کے باعث متعدد مراکز بند یا جزوی طور پر فعال ہیں۔
دستاویزات کے مطابق باغ میدان تیراہ، پٹھائی، بابر کچکول تیراہ، بینائی تیراہ، تور چپر تیراہ، سرائے تیراہ اور ٹوڑ خوار تیراہ کے مراکز مکمل طور پر غیر فعال ہیں، جبکہ باغ میدان خارکئی تیراہ، دربی خیل تیراہ اور دوران گل کلی کی ڈسپنسریز جزوی طور پر بند ہیں۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ میں بدامنی اور فوجی آپریشنز کے دوران نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندان اس وقت باڑہ اور گردونواح میں مقیم ہیں، جس کے باعث علاقے کی آبادی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔
ان متاثرہ خاندانوں کی اکثریت مالی مشکلات کے باعث نجی ہسپتالوں سے رجوع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً ڈوگرہ ہسپتال، کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈوگرہ ہسپتال میں محدود وسائل، طبی عملے کی کمی اور جدید طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ تقریباً 6 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے یہ واحد بڑا سرکاری ہسپتال ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق ایمرجنسی، گائنی، چلڈرن، سرجری اور تشخیصی سہولیات ناکافی ہونے کے باعث اکثر مریضوں کو پشاور منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے غریب خاندانوں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام فاٹا کے رہنما مولانا سید جلیل حقانی آفریدی نے کہا کہ ڈوگرہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن اب ضرورت نہیں بلکہ ناگزیر بن چکی ہے۔
ان کے مطابق وادی تیراہ سے متاثرہ خاندانوں کی نقل مکانی کے بعد باڑہ کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جبکہ غربت اور بے روزگاری کے باعث عوام نجی ہسپتالوں کے بجائے سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈوگرہ ہسپتال میں موجود سہولیات نہ صرف باڑہ بلکہ تیراہ متاثرین کے لیے بھی ناکافی ہوچکی ہیں۔ روزانہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہسپتال میں سہولیات اب بھی محدود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں اعلانات تو کررہی ہے، مگر عملی اقدامات سست روی کا شکار ہیں۔
مولانا سید جلیل حقانی آفریدی نے مزید کہا کہ ڈوگرہ ہسپتال وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی علاقے کا واحد فعال ٹائپ ڈی ہسپتال ہے، لیکن اس کے باوجود تاحال اسے کیٹیگری سی میں اپ گریڈ نہیں کیا جاسکا۔
ان کے مطابق حکومت کی جانب سے اپ گریڈیشن کے دعوے کیے گئے، تاہم یہ اقدامات اب تک کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈوگرہ ہسپتال کو فوری طور پر ایمرجنسی بنیادوں پر کیٹیگری سی میں اپ گریڈ کیا جائے، ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے، جدید طبی آلات فراہم کیے جائیں اور بستروں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ باڑہ اور تیراہ کے عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آسکیں۔
دوسری جانب رکن صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک چیئرمین خیبر عبدالغنی آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحصیل باڑہ میں قائم چھوٹے صحت مراکز کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، جبکہ ڈوگرہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی فزیبلٹی اور پی سی ون مکمل تیار ہے اور منصوبے کو آئندہ 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جلد باڑہ کے عوام کیٹیگری سی ہسپتال کی جدید طبی سہولیات سے مستفید ہوسکیں گے۔
ادھر ضلع خیبر کے عوامی، سماجی اور قبائلی حلقوں نے بھی حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر فعال صحت مراکز کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، خالی آسامیوں پر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعیناتی کی جائے اور دور افتادہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو علاج کے لیے دیگر اضلاع کا رخ نہ کرنا پڑے۔
