ذلان خان آفریدی
ضلع خیبر کی معیشت کا اہم ذریعہ سمجھے جانے والا طورخم بارڈر کی طویل بندش نے مقامی ٹیکسی ڈرائیوروں اور مزدور طبقے کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
بارڈر بند ہونے کے باعث سینکڑوں خاندان بے روزگاری اور فاقہ کشی کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے لنڈی کوتل کے علاقے خوگہ خیل سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور وقاص شنواری نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے طورخم سے کارخانو مارکیٹ تک موٹر ٹیکسی چلا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے، تاہم گزشتہ آٹھ ماہ سے بارڈر بند ہونے کے باعث ان کا روزگار مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:چترال: وادی کیلاش میں چلم جوشی فیسٹیول کا آغاز، ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع
انہوں نے بتایا کہ مسلسل بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث آخرکار انہیں اپنی ٹوڈی موٹر کار فروخت کرنا پڑی، کیونکہ گاڑی کئی مہینوں سے گھر میں کھڑی خراب ہو رہی تھی۔

ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف ان کا نہیں بلکہ لنڈی کوتل کے سینکڑوں ڈرائیور اسی کرب سے گزر رہے ہیں۔ بعض افراد نے اپنی گاڑیاں فروخت کر دی ہیں جبکہ کئی اب بھی اس امید پر بیٹھے ہیں کہ طورخم بارڈر دوبارہ کھل جائے گا اور ان کا روزگار بحال ہو جائے گا۔
وقاص کے مطابق بارڈر کھلا ہونے کے دوران روزانہ تقریباً چھ ہزار افراد دونوں اطراف افغانستان اور پاکستان کے درمیان سفر کرتے تھے، جبکہ طورخم میں مزدوری اور دیگر روزگار کے سلسلے میں بھی بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے۔ بارڈر بند ہونے کے بعد تقریباً دو ہزار مزدور بھی بے روزگار ہو گئے ہیں۔
متاثرہ ڈرائیوروں اور مزدوروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع خیبر کے عوام کا زیادہ تر روزگار طورخم بارڈر سے وابستہ ہے اور اس کی بندش نے لوگوں کو شدید معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ قریب ہے مگر مالی مشکلات کے باعث بہت سے لوگ سنت ابراہیمی ادا کرنے سے بھی محروم رہ سکتے ہیں۔
متاثرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ دونوں اطراف کے عوام دوبارہ سکون کا سانس لے سکیں اور مقامی لوگوں کا روزگار بحال ہو سکے۔
