خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے 2 ہزار سرکاری پرائمری سکول نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی، پہلے مرحلے میں 500 سکول نجی انتظام کے تحت دیے جائیں گے جبکہ سرمائی زونز میں 233 سکول پہلے ہی نجی اداروں کے سپرد کیے جا چکے ہیں اور فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

 

سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سکولوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے باقاعدہ معیار مقرر کیا جا رہا ہے اور نتائج کی بنیاد پر مزید سکولوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: طورخم بارڈر کے مزدور اور ڈرائیور روزگار کی بندش سے کس طرح متاثر ہو رہے ہیں؟

 

حکام کے مطابق نجی شعبے کے حوالے کیے گئے سکولوں میں طلبہ کے اندراج میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

 

ان سکولوں میں پہلے طلبہ کی تعداد 4 ہزار 86 تھی جو بڑھ کر 6 ہزار 718 تک پہنچ گئی ہے، یعنی انرولمنٹ میں تقریباً 89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 

صوبائی حکومت ہر سکول کو عملے کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں ماہانہ 3 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔ نجی انتظام کے تحت دیے گئے سکولوں کے لیے ایک سال کے اندر طلبہ کی تعداد 40 سے بڑھا کر 180 تک لے جانا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اہداف حاصل نہ کرنے کی صورت میں معاہدہ ختم کیا جا سکے گا۔

 

دوسری جانب محکمہ تعلیم ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے حوالے ہونے والے سکولوں کے اساتذہ کو سرپلس پول میں شامل کر کے ان سکولوں میں تعینات کیا جائے گا جہاں اساتذہ کی کمی ہے۔

 

 حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف اساتذہ کی کمی پوری ہوگی بلکہ تعلیمی معیار بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔