میاں وقاص احمد
باجوڑ میں ماربل (سنگِ مرمر) کی صنعت مقامی معیشت اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ سینکڑوں مزدور آج بھی بنیادی قانونی اور حفاظتی حقوق سے محروم ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں 33 ماربل فیکٹریاں فعال ہیں، جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ان کارخانوں میں تقریباً 500 مزدور روزانہ کام کرتے ہیں۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں طویل اوقاتِ کار، کم اجرت اور ناکافی حفاظتی سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: باڑہ سیاسی اتحاد کا دھرنا کامیاب، حکومت سے مذاکرات کے بعد اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
ایک ماربل فیکٹری میں گزشتہ 13 برس سے کام کرنے والے مزدور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی ڈیوٹی صبح ساڑھے سات بجے شروع ہو کر شام 6 بجے تک جاری رہتی ہے۔
“ہم روزانہ تقریباً 11 گھنٹے مسلسل مشینوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، لیکن اس سخت محنت کے بدلے صرف 30 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں سے 10 ہزار روپے آنے جانے کے کرایے پر خرچ ہو جاتے ہیں۔”

مزدور کے مطابق فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ اب ماربل کی کٹائی کے لیے صاف پانی کے بجائے آلودہ پانی بار بار استعمال کیا جا رہا ہے، جو مزدوروں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ماربل فیکٹری کے مالک فضل رحمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو ماسک، دستانے اور حفاظتی جوتے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی مزدور کو حادثہ پیش آئے تو علاج کے تمام اخراجات فیکٹری انتظامیہ برداشت کرتی ہے۔
فضل رحمان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کو تجربے کی بنیاد پر 30 سے 45 ہزار روپے تک تنخواہیں دی جاتی ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے فیکٹری مالکان کو بھی مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
'محنت کش لیبر فیڈریشن' کے صوبائی صدر ابرار اللہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیبر قوانین کے مطابق غیر ہنرمند مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ روزانہ کام کے اوقات 8 گھنٹے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر مزدور کو تقرر نامہ اور سوشل سیکیورٹی کی سہولت دینا قانونی تقاضا ہے، مگر بیشتر فیکٹریوں میں ان قوانین پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں لیبر قوانین پر عملدرآمد کی شرح 5 فیصد سے بھی کم ہے۔

ابرار اللہ نے مزید بتایا کہ جو مزدور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، انہیں ملازمت سے نکالنے کا خوف رہتا ہے، جس کی وجہ سے مزدور کھل کر شکایات بھی نہیں کر پاتے۔
اس حوالے سے انسپکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ باجوڑ عمر حیات کا کہنا ہے کہ محکمہ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔
“ہم فیکٹریوں کا دورہ کرتے ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں نوٹس جاری کرتے ہیں اور پھر کیس لیبر کورٹ بھیج دیا جاتا ہے۔ جرمانہ یا سزا دینا عدالت کا اختیار ہے، محکمہ براہِ راست کسی فیکٹری کو سیل نہیں کر سکتا۔”
باجوڑ کی ماربل صنعت سے وابستہ مزدور آج بھی اس انتظار میں ہیں کہ لیبر قوانین صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر ان کی زندگیوں میں بھی بہتری لائیں۔ مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے محض دعووں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے انہیں ان کے بنیادی حقوق فراہم کریں۔
