ایاز مندو خیل
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جہاں عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، وہیں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرحدی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جہاں ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے۔
ایران کے ساتھ تقریباً 906 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا بلوچستان طویل عرصے سے سرحدی تجارت پر انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اس تجارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے اثرات براہِ راست مقامی آبادی پر پڑ رہے ہیں۔
بلوچستان کے پانچ سرحدی اضلاع گوادر، کیچ، پنجگور، واشک اور چاغی ایران کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہی علاقے بارڈر ٹریڈ کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کر رہی ہے؟
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کشیدگی سے قبل ایران سے بڑی مقدار میں پٹرولیم مصنوعات روزانہ بلوچستان منتقل کی جاتی تھیں۔ ضلع کیچ میں تقریباً 600 گاڑیاں یومیہ 2.4 ملین لیٹر پٹرول لاتی تھیں جبکہ چاغی میں 250 گاڑیاں ایک ملین لیٹر پٹرول منتقل کرتی تھیں۔

اسی طرح پنجگور میں 600 گاڑیاں روزانہ 2.4 ملین لیٹر جبکہ واشک میں 700 گاڑیاں تقریباً 2.8 ملین لیٹر پٹرول لاتی تھیں۔ گوادر کے کنٹانی بارڈر کے ذریعے تقریباً 2000 کشتیاں یومیہ 3.22 ملین لیٹر پٹرول بلوچستان پہنچاتی تھیں۔
اس طرح مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 11.82 ملین لیٹر پٹرول صوبے میں داخل ہوتا تھا جس کا بڑا حصہ غیر دستاویزی یا غیر رسمی تجارت کے ذریعے آتا تھا جسے مقامی سطح پر اسمگلنگ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجارت زیادہ تر مقامی سطح پر ہوتی تھی جو عالمی بینکنگ نظام یا بڑی کمپنیوں کے بجائے سرحدی روابط اور غیر رسمی نیٹ ورکس پر مبنی تھی۔
بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں خوراک، ایندھن اور بجلی کے لیے ایران پر نمایاں انحصار پایا جاتا ہے۔ نوٹیفائیڈ اور غیر نوٹیفائیڈ کراسنگ پوائنٹس جیسے رمضان گبد اور پشین مند کے ذریعے یہ تجارت جاری رہی جہاں زامیاد گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے روزانہ بڑی مقدار میں پٹرول اور دیگر اشیاء منتقل کی جاتی تھیں۔

پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ ایران سے بلوچستان میں آٹا، چاول، سبزیاں، پھل اور خشک میوہ جات سمیت مختلف اشیائے ضروریہ بھی درآمد کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ کپڑے، جوتے، برتن اور الیکٹرانکس جیسی گھریلو اشیاء بھی لائی جاتی تھیں۔
ایران سے بجلی کی فراہمی خاص طور پر گوادر، پنجگور اور واشک کے لیے ایک اہم ذریعہ تھی جبکہ دودھ، پانی اور محدود پیمانے پر مشینری بھی سرحد پار سے فراہم کی جاتی رہی۔
تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد اس صورتحال میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یومیہ سپلائی نصف یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے۔
خوراک خصوصاً سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ ایران سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ دیگر غیر ضروری اشیاء کی آمد بھی تقریباً رک چکی ہے۔
ایک مقامی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمارا سارا روزگار اسی بارڈر ٹریڈ سے وابستہ تھا لیکن موجودہ حالات میں کاروبار تقریباً بند ہو چکا ہے اور اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق ماضی میں ایرانی پٹرول اور سبزیاں نسبتاً سستی دستیاب تھیں تاہم اب نہ صرف قلت پیدا ہو گئی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ مزید نوٹیفائیڈ کراسنگ پوائنٹس کھولے، بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر بنائے، مقامی صنعتوں کو فروغ دے اور تاجروں کو قانونی سہولیات فراہم کرے تاکہ اس بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
بلوچستان کے سرحدی اضلاع طویل عرصے سے ایران کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتے آئے ہیں تاہم موجودہ کشیدگی نے اس نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
اگر فوری پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف ایک بڑے معاشی بحران بلکہ انسانی بحران کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات بلوچستان سے نکل کر ملک کے دیگر حصوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
