عارف احمد 

 

بعض کہانیاں محض اتفاق نہیں ہوتیں بلکہ انسانیت، امید اور دعاؤں کی طاقت کی ایسی مثال بن جاتی ہیں جو برسوں یاد رہتی ہیں۔ 

 

سوات کے علاقے چارباغ سے تعلق رکھنے والے نوجوان حسن علی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جس نے تقریباً چالیس سال سے بچھڑے سری لنکا اور پاکستان کے دو خاندانوں کو دوبارہ ملا دیا۔

 

یہ کہانی سری لنکا سے تعلق رکھنے والی خاتون عاصمیہ کی ہے، جو 1975 میں روزگار کے سلسلے میں دبئی گئی تھیں۔ وہاں ایک عرب خاندان کے گھر میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہری ملداد سے ہوئی۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوا اور بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: امام مسجد نے بیٹے سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیوں کیا؟

 

شادی کے بعد عاصمیہ اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئیں اور کراچی میں رہائش اختیار کر لی۔ ابتدائی چند برسوں تک ان کا اپنے خاندان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹی، ثانیہ، پیدا ہوئیں۔

 

تاہم اُس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے۔ نہ موبائل فون تھے اور نہ ہی انٹرنیٹ جیسی سہولتیں موجود تھیں۔ چند برس بعد خطوط کا سلسلہ اچانک ختم ہو گیا اور دونوں خاندان ایک دوسرے سے مکمل طور پر بے خبر ہو گئے۔

 

سری لنکا میں عاصمیہ کے والدین اور بہن بھائی برسوں تک ان کی تلاش کرتے رہے۔

 

 خاندان کے افراد ہر اُس پاکستانی سے رابطہ کرتے جو سری لنکا آتا، تصاویر دکھاتے اور پوچھتے کہ شاید کسی کو ان کی بہن کے بارے میں کچھ معلوم ہو، مگر وقت گزرتا گیا اور تلاش کامیاب نہ ہو سکی۔

 

اہلِ خانہ کے مطابق عاصمیہ کے والدین اپنی بیٹی کے انتظار اور جدائی کے غم میں دنیا سے رخصت ہو گئے، جبکہ بہن بھائیوں نے ان کی تلاش جاری رکھی۔

 

دوسری جانب پاکستان میں عاصمیہ اپنی زندگی گزارتی رہیں، مگر اپنے خاندان کی یاد ان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ اکثر اپنے عزیزوں کو یاد کر کے رو پڑتی تھیں۔

 

وقت گزرنے کے ساتھ عاصمیہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی بیٹی ثانیہ نے اپنی والدہ کی یہ خواہش دل میں زندہ رکھی۔

 

ثانیہ اپنی والدہ کی کہانی سنتے ہوئے بڑی ہوئیں۔ وہ اکثر تہجد میں اللہ سے دعا کرتی تھیں کہ ایک دن انہیں اپنے ننھیال سے ملنے کا موقع ملے۔ ان کے دل میں یہ امید ہمیشہ قائم رہی کہ شاید کبھی نہ کبھی اپنے خاندان کا سراغ مل جائے۔

 

اسی دوران سوات کے نوجوان حسن علی ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں سری لنکا گئے۔ وہاں اتفاقاً ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی، جس نے اپنی برسوں سے گمشدہ بہن کی داستان سنائی۔ حسن علی کے مطابق اس شخص کی باتیں سن کر وہ بہت متاثر ہوئے۔

 

 

حسن علی کہتے ہیں،“مجھے محسوس ہوا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے میرے لیے ایک ذمہ داری ہے۔”

 

پاکستان واپس آنے کے بعد حسن علی نے اس خاندان کو تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ ابتدا میں انہوں نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کیں، مگر کامیابی نہ مل سکی۔

 

بعد ازاں ان کا رابطہ ولی اللہ المعروف سے ہوا، جو اس سے پہلے بھی گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں لوگوں کی مدد کر چکے تھے۔

 

دونوں نے مل کر سوشل میڈیا پر عاصمیہ کی کہانی اور تصاویر شیئر کیں۔ حیران کن طور پر اگلے ہی روز مسقط سے ایک شخص نے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اس خاندان کو جانتا ہے اور عاصمیہ واقعی پاکستان میں آباد تھیں۔

 

تاہم اس رابطے کے ساتھ ایک افسوسناک خبر بھی سامنے آئی۔اس شخص نے بتایا کہ عاصمیہ کا انتقال ہو چکا ہے۔

 

یہ خبر سن کر سری لنکا میں موجود خاندان غمزدہ ہو گیا، تاہم انہیں یہ جان کر کچھ سکون ملا کہ عاصمیہ کی ایک بیٹی، ثانیہ، موجود ہیں، جو برسوں سے اپنے ننھیال سے ملنے کی دعائیں مانگتی رہی ہیں۔

 

بعد ازاں حسن علی اور ولی اللہ المعروف کی کوششوں سے ثانیہ اور ان کے سری لنکن رشتہ داروں کے درمیان رابطہ قائم ہو گیا۔ جب پہلی بار ویڈیو کال پر خاندان کے افراد ایک دوسرے سے ملے تو جذبات قابو میں نہ رہ سکے۔

 

 

ثانیہ اپنی والدہ کے بہن بھائیوں کو دیکھ کر رو پڑیں، جبکہ دوسری جانب سری لنکا میں موجود خاندان برسوں بعد اپنی بہن کی نشانی کو دیکھ کر جذباتی ہو گیا۔

 

خاندان کے افراد کے مطابق وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

 

حسن علی کہتے ہیں کہ اس پورے واقعے نے انسانیت اور دعاؤں کی طاقت پر ان کے یقین کو مزید مضبوط کر دیا۔

 

“مجھے لگا کہ اللہ نے مجھے صرف ایک ذریعہ بنایا۔ عاصمیہ کی دعائیں اور ان کی بیٹی ثانیہ کی تہجد کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے یہ مشکل کام ممکن بنا دیا۔”

 

یہ واقعہ صرف ایک خاندان کے دوبارہ ملنے کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ وقت، فاصلے اور سرحدیں بھی اُن رشتوں کو ختم نہیں کر سکتیں جو محبت، امید اور دعا سے جڑے ہوں۔