مدرسہ حقانیہ دھماکے اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق کیسز میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 

 

اس سلسلے میں پشاور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کرک اور خیبر کے علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کیں، جن کے دوران 21 دہشتگرد ہلاک جبکہ 9 کو گرفتار کرلیا گیا، جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کب آئے گی

 

سینٹرل پولیس آفس کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران دہشتگردی سے منسلک مالی نیٹ ورک، فنڈنگ کے ذرائع، محفوظ ٹھکانوں اور حملوں کے اہداف کے تعین کے طریقہ کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 

 ابتدائی تحقیقات میں اس بات کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ دہشتگرد عناصر کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی معاونت حاصل کر رہے تھے۔

 

سی پی او کا کہنا ہے کہ جاری تفتیش میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ خفیہ سلیپر سیلز اور غیر ملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورکس کا سراغ لگایا گیا ہے، تاہم سرحد پار روابط اور دشوار جغرافیائی خطہ تفتیشی عمل میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

 

مزید بتایا گیا ہے کہ پولیس لائنز خودکش حملے اور مدرسہ حقانیہ دھماکے سمیت بعض اہم واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی، جبکہ مختلف کالعدم تنظیموں کی جانب سے کیے گئے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ثابت ہوئے ہیں۔