عدالت کے کمرے میں اس وقت خاموشی چھا گئی جب ایڈیشنل سیشن جج شبقدر-II نے 28 اپریل کو دو خواتین کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم بختیار عرف کوچے کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے کا اختتام تھا جس نے چار برس تک متاثرہ خاندان کو انصاف کے انتظار میں رکھا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے باہر مقتولہ کے اہل خانہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ خاندان کی ایک خاتون نے جذباتی انداز میں کہا، “ہمیں چار سال بعد انصاف تو مل گیا، مگر ہماری دو بہوئیں واپس نہیں آ سکتیں۔”
یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان ائیرپورٹ برسوں بعد دوبارہ فعال کر دیا گیا
عدالت نے مجرم کو اپنی بیوی مسماۃ سمیہ اور بھابھی مسماۃ زیبا کے قتل کے جرم میں دو الگ الگ سزائے موت سنائی، جبکہ ہر مقدمے میں پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ اپنی والدہ حسن پری کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے مقدمے میں مجرم کو دو سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔
سرکاری وکیل کے مطابق یہ واقعہ جون 2022 میں ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں پیش آیا، جب ملزم کے گھر میں خواتین کے درمیان کسی گھریلو معاملے پر تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
وکیل نے بتایا کہ مجرم نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بھابھی جاں بحق ہوگئیں جبکہ والدہ زخمی ہوئیں۔
اس مقدمے کی پیروی کرنے والے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر ثمین احمد کے مطابق یہ کیس صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ مظلوم خواتین کے لیے انصاف کی جدوجہد تھا۔
ثمین احمد کہتے ہیں، “ہم نے اس مقدمے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطے میں رہے، گواہوں کو تیار رکھا اور کیس کے تمام قانونی پہلوؤں کو مضبوط بنایا تاکہ عدالت میں شواہد مؤثر انداز میں پیش کیے جا سکیں۔”
انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سنگین شاہ بھی اس مقدمے کی مسلسل نگرانی کرتے رہے اور ہر مرحلے پر قانونی رہنمائی فراہم کرتے رہے۔
ثمین احمد کے مطابق سرکاری وکیل دراصل عوام کے وکیل ہوتے ہیں اور جب کسی کے ساتھ ظلم ہو تو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن قانونی کوشش کی جاتی ہے۔
خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن ثمرین عباس نے اس فیصلے کو ایک مثبت مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق پراسیکیوشن نے مقدمے کو جس انداز میں آگے بڑھایا، وہ پیشہ ورانہ اور سنجیدہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم ثمرین عباس کے مطابق اگر خیبرپختونخوا یا پورے پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر مقدمے میں ایسا نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے کیسز کمزور تفتیش، ناقص شواہد اور طویل عدالتی کارروائی کے باعث متاثر ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، “تفتیشی نظام میں خامیاں سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ اکثر پولیس شواہد درست انداز میں جمع نہیں کر پاتی، جس کا فائدہ عدالت میں ملزمان کو مل جاتا ہے۔”
ان کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ بھی چار برس بعد آیا، جبکہ ایسے کئی مقدمات میں متاثرہ خاندان طویل قانونی عمل سے تھک کر صلح پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے سماجی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے ثمرین عباس کہتی ہیں کہ پشتون معاشرے میں جرگہ اور روایتی دباؤ کا کردار بھی بہت مضبوط ہے، جہاں بعض اوقات متاثرہ خاندانوں پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، چاہے ظلم واضح ہی کیوں نہ ہو۔
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ گزشتہ سال وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ 2021 سے 2024 کے درمیان ملک بھر میں ساڑھے سات ہزار سے زائد خواتین قتل کی گئیں، جن میں 1533 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک ہزار سے زائد خواتین قتل کی جاتی ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سنگین شاہ کے مطابق اس مقدمے کی مسلسل نگرانی اس لیے ضروری تھی کیونکہ اس میں دو خواتین کے قتل کا معاملہ شامل تھا۔
ان کے بقول، “یہ ناقابل قبول ہے کہ کوئی شخص ایسا جرم کرے اور قانون کی گرفت سے بچ جائے۔ ایسے مقدمات میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔”
یہ فیصلہ ایک خاندان کے لیے انصاف کی علامت ضرور بنا، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی چھوڑ گیا کہ کیا ہر متاثرہ خاندان کو اسی طرح انصاف مل پاتا ہے، یا انصاف کا یہ سفر اب بھی بہت سے لوگوں کے لیے طویل اور دشوار ہے۔
