سلمان خان
ملک میں پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد رواں سال متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 3 تک پہنچ گئی ہے۔
نئے کیسز خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں بنوں کی یونین کونسل جانی خیل اور شمالی وزیرستان کی یونین کونسل گھڑیوم میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق بنوں میں متاثرہ بچی کی شناخت 24 ماہ کی سمیرا کے نام سے ہوئی ہے، جس میں پولیو کی علامات 7 اپریل کو ظاہر ہوئیں جبکہ 10 اپریل کو کیس رپورٹ کیا گیا۔ بعد ازاں 12 اپریل کو مکمل تحقیقات کی گئیں۔
حکام کے مطابق پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
ای او سی نے والدین پر زور دیا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو لازمی حفاظتی قطرے پلوائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ای او سی کے مطابق رواں ماہ ملک بھر کے مختلف اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جائے گی، جس کے دوران تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت نے نئے کیسز کے بعد متاثرہ علاقوں میں نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے اور فیلڈ ٹیموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ملک بھر میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں بنوں سے 3 کیسز سامنے آئے تھے، جن میں دو سب ڈویژن وزیر کے علاقے سین تنگہ اور ایک یونین کونسل شمسی خیل سے رپورٹ ہوا تھا۔
