ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل میں ڈرون حملے کے خلاف  احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ کے واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔

 

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

یہ بھی پڑھیں: خیبر: باڑہ اکاخیل میں گھر پر ماٹر گولہ گرنے سے 12 سالہ لڑکی جاں بحق، 6 افراد زخمی

 

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باڑہ کے علاقے اکاخیل میں ڈرون حملے کے پیچھے عسکریت پسند ملوث ہیں۔

 

 ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران جب شدت پسندوں کا گھیراؤ تنگ ہوا تو انہوں نے فورسز کی توجہ ہٹانے کے لیے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا اور ایک مقامی گھر پر حملہ کیا۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے  زخمیوں کو فوری طور پر سیکیورٹی فورسز نے فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا نارتھ کے ہسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز  تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل کڑاپہ میں مبینہ ڈرون حملے  کے  نتیجے میں 12 سالہ لڑکی جاں بحق جبکہ دو خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

 

واقعے کے بعد کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور احتجاج کیا، جس پر مبینہ طور پر پولیس نے فائرنگ کی تھی۔